تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 72
وثوق کے ساتھ یہ باتیں کرتے ہیں کہ گویا دنیا کو فتح کرنا ان کے لئے معمولی بات ہے کیونکہ اُن کے نزدیک یہ خدا کا وعدہ ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔اور پھر وہ ایسا ہی کر کے دکھا دیتے ہیں۔تو اس بات کو دیکھ کر میرا دل یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ مَیں ان کو جھوٹا اور فریبی کہوں تو اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا میں جو پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو وہ مقام ملے گا جو ان کی کامیابیوں اور فتوحات کا مرکز ہوگا۔پہلے وہ انہیں مکروہات سے نجات دلائے گا اور پھر اُن کو کامیابیوں اور فتوحات سے حصہ دے گا۔اس پیشگوئی کا نظارہ مدینہ منورہ سے بڑھ کر اور کہیں نظر نہیں آسکتا۔مدینہ منورہ سے بڑھ کر اور کوئی مقام ایسا نظر نہیں آتا جو ایسا مرکز بناہو جیسے مدینہ اسلام کا مرکز بنا۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ لنڈنؔ اور برلنؔ اور پٹسؔبرگ وغیرہ بھی بڑے بڑے مرکز ہیں ان کے مقابلہ میں مدینہ کی مرکزی حیثیت کس طرح پیش کی جا سکتی ہے مگر وہ کہنے والا یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مقامات وہ ہیں جنہیں پہلے سے طاقت حاصل تھی۔مگر مدینہ وہ مقام تھا جسے کوئی طاقت حاصل نہیں تھی مگرپھر بھی وہ ساری کامیابیوں کا مرکز بن گیا اور اس زمانہ کی پیشگوئی کے مطابق بنا جب مسلمانوں کے لئے سر چھپانے کی جگہ بھی نہ تھی۔حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ۰۰۳۳ (یعنی) باغات اور انگور۔حل لغات۔حَدَآئِق حَدَآئِقَ حَدِیْقَۃٌ کی جمع ہے اور اَلْحَدِیْقَۃُ کے معنے ہیں اَلْبُسْتَانُ یَکُوْنُ عَلَیْہِ حَائِطٌ وہ باغ جس کے ارد گرد دیوار ہو۔(اقرب ) اَعْنَاب اَعْنَابٌ عِنَبٌ کی جمع ہے اور عِنْبٌ کے معنے انگور کے ہوتے ہیں یعنی انگور کے پھل کو عربی زبان میں عِنَبٌ کہتے ہیںاور کَرَمٌ انگور کی بیل کو کہا جاتا ہے لیکن عِنَبٌ انگور کو اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ وہ تازہ ہو اگر وہ خشک ہو جائے تو اُسے زَبِیْب کہتے ہیں (اقرب) نیز عِنَبٌ شراب ہو بھی کہتے ہیں (اقرب) کیونکہ عنب سے ہی شراب بنتی ہے۔دراصل کسی چیز کا جب کسی دوسری چیز میں کوئی غالب اثر پایا جائے تو اُس کانام بعض دفعہ اُسی کے نام پر رکھ دیتے ہیں۔عِنْب سے چونکہ خَمْر بنتی ہے اس لئے عربی زبان میں عِنَب کے ایک معنے خَمَر کے بھی کئے جاتے ہیں۔تفسیر۔حَدَائِق بدل ہے مَفَازًا کا۔لیکن میرے نزدیک یہ بدلِ کُل نہیں بلکہ بدل اشتمال ہے یعنی کچھ