تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 66
بتا چکا ہوں کہ اس سورۃ میں غلبۂ اسلام کا بھی ذکر ہے اور قرآن کریم کے غلبہ کا بھی اس میں ذکر ہے پس اس میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ مومنوں کے لئے مکروہات سے نجات حاصل کرنے کے سامان پیدا ہو جائیں گے اور ان کوایسی جگہیں عنایت ہو ں گی جو مقام نجات یا مقام کامیابی کہلانے کی مستحق ہوں گی۔یہ پیشگوئی ایسے وقت کی گئی تھی جب مسلمانوں کے لئے کسی قسم کا ٹھکانہ نہیں تھا۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے یہ سورۃ مکّی ہے اور مکّی بھی ابتدائی زمانہ کی ہے۔اُس وقت اسلام میں صرف دس بارہ آدمی شامل تھے اور ان کو کفار کی طرف سے ایسی ایسی تکالیف دی جاتی تھیں جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔مکہ میں مسلمانوں پر تکالیف کا زمانہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ غلام جو ابتدائی زمانہ میں مسلمان ہوگئے تھے کفّار مکّہ اُن کو تپتی ریت پر عرب جیسے گرم علاقہ میں لٹا دیتے اور جب اس کے نتیجہ میں بھی وہ اسلام سے بیزاری کا اظہار نہ کرتے تو تپتے ہوئے پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیتے بلکہ بعض دفعہ کوئی آدمی اُن کے سینہ پر چڑھ جاتا۔پھر بعض کے پاؤں میں رسی باندھ کر انہیں مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا جاتا۔وہاں عام طور پر بارشوں کے اثر سے اپنے مکانات کوبچانے کے لئے دروازوں کے آگے بڑے بڑے پتھر رکھ دیتے تھے۔جن کو کھنگر کہتے ہیں تاکہ بارش کی وجہ سے دیواریں خراب نہ ہوں۔کفّار مکہ کی عادت تھی کہ وہ مسلمانوں کو جب دکھ دیتے اور اُن کی ٹانگوں میں رسی باندھ کر مکّہ کی گلیوں میں گھسیٹتے تو ان کھنگروں پر سے بھی اُن کو گھسیٹتے ہوئے چلے جاتے اور اُن کے جسم لہو لہان ہو جاتے۔ایک صحابی خباب بن ارتّ نے جو پہلے غلام تھے اور غلامی کی حالت میں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اُنہیں بڑی بڑی تکالیف دی گئی تھیں ایک دفعہ فتوحات کے زمانہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُن سے مشرکوں کی ایذادہی کے متعلق دریافت کیا تب انہوں نے اپنی پیٹھ سے کپڑا اُٹھایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ کی کھال ایسی تھی جو عام انسانوں کی نہیں ہوتی۔وہ دیکھ کر حیران ہوئے اور کہنے لگے کیا آپ کو یہ کوئی بیماری ہے؟ وہ کہنے لگے بیماری نہیں بلکہ پتھروں پر ہمیں گھسیٹا جاتا تھا اس کی وجہ سے زخم اور خراش ہو ہو کر میری پیٹھ کا چمڑا ایسا ہوگیا۔(اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابۃ زیر عنوان خباب بن الارثؓ الطبقات الکبریٰ زیر عنوان بلال بن رباح ، السیرۃ الحلبیۃ زیر عنوان استخفائہ و اصحابہ فی دار الارقم بن الارقم ،الکامل فی التاریخ لابن اثیر زیر عنوان تاریخ الرسل والانبیاء) یہ حالات تھے جو مسلمانوں پر وارد ہورہے تھے اُدھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ حالت تھی کہ آپؐ باہر نکل کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔حضرت اُم ہانی ؓ کے مکان میں آپ چند ساتھیوں کو لے کر جمع ہو تے۔نماز