تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 67
پڑھتے اور دین کی باتیں کرتے۔کھلے میدان میں آپ کا نمازیں پڑھنا یا دین کی باتیں کرنا بالکل نا ممکن تھا۔اسی طرح قرآن کریم کو باہر نکل کر پڑھنا یا اپنے صحن میں ہی بلند آواز سے پڑھنا۔یہ بھی جُرم سمجھا جاتا تھا جب مصائب حد سے بڑھ گئے تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ ؓ آپ سے اجازت لے کر مکّہ مکرمہ سے باہر جانے شروع ہو گئے۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد اذن رسول اللہ للمسلمین فی الھجرۃ الی المدنیۃ)ایک دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا۔وہ اپنا سامان لے کر جارہے تھے کہ مکّہ کا ایک رئیس ابن الدغنہ انہیں ملا۔اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اسباب باندھ کر کہاں جارہے ہیں؟ اُنہوں نے کہا کہ چونکہ اس جگہ دین کی آزادی نہیں ہے اور میری قوم دشمنی کرتی ہے اس لئے میں مکّہ چھوڑ کر جارہا ہوں۔اُس نے کہا وہ شہر کس طرح آباد رہ سکتا ہے جس میں سے آپ جیسا آدمی نکل جائے۔میں آپ کا ضامن ہوں آپ باہر نہ جائیں۔چنانچہ اُس نے اعلان کر دیا کہ (حضرت) ابو بکر ؓمیری حفاظت میں ہیں۔اہل عرب میں بہت بڑی خود سری پائی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود ان میں یہ خوبی تھی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو اپنی حفاظت اور پناہ میں لے لیتا تو پھر اُسے کوئی شخص تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا اور اگر کوئی پہنچانا چاہتا تودُوسرے اُسے روک دیتے کہ تم ایسا مت کرو یہ فلاں شخص کی حفاظت میں ہے۔اُس نے بھی جب اعلان کر دیا کہ ابو بکرؓ میری حفاظت میں ہے تو حضرت ابو بکر ؓ اطمینان کے ساتھ مکّہ میں رہنے لگ گئے۔ایک روز وہ اپنے صحن میں باہر نکل کر قرآن شریف پڑھ رہے تھے کہ اِ ن پر رقّت غالب آگئی اور اُن کے آنسو بہنے شروع ہو گئے۔حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کَانَ رَجُلًا بَکاَّءً یعنی اُن کو قرآن شریف پڑھتے وقت بہت رقّت آجایا کرتی تھی اور وہ رو پڑتے تھے۔اُن کے قرآن شریف پڑھنے کی آواز سُن کر بچے اور عورتیں اردگرد کے گھروں سے نکل کر وہاں جمع ہو جایا کرتی تھیں۔بچوں اور عورتوں میں خصوصیت سے یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب اُنہیں کوئی نئی چیز نظر آئے تو دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں۔اُن کے لئے بھی قرآن شریف بالکل نیا کلام تھا اور پھرجب کوئی بڑا آدمی رو رہا ہو تو لازمًا دوسروں کو توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ اُنہوں نے اپنے دروازوں سے لگ کر قرآن شریف سُننا شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب قرآن کریم کی آواز اُن کے کانوں میں پڑی اُدھر حضرت ابو بکر ؓ کی رقّت اور اُن کے گریہ کو دیکھا تو محلہ کی عورتیں بھی متاثر ہونے لگیں اور اس طرح اس محلہ میں جس میں حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ رہتے تھے اسلام کا چرچا شروع ہو گیا اور عورتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو بڑی اچھی باتیں ہیں۔جب اُن کے خاوندوں کو علم ہوا کہ ہماری عورتیں اس طرح متاثر ہو رہی ہیں تو وہ اس رئیس کے پاس گئے جس نے انہیںاپنی حفاظت میں لیا تھا اور کہا کہ آپ نے ابو بکر ؓ کو اپنی حفاظت میں لے کر یہ کیا مصیبت پید اکر دی ہے کہ