تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 65

ترقی کریں گے جوں جوں مرض بڑھتی ہے تکلیف بھی بڑھتی جاتی ہے اور ضعف بھی زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن اس کے خلاف کبھی عذاب برداشت کرنے کی عادت بھی بڑھ جاتی ہے مگر اُس کا علاج اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ بتا دیاکہ جب اُنہیں عذاب کی عادت ہو جائے گی تو اُن کو نئی جلود دے دی جائیں گی۔فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا کے دنیوی لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمان روز بروز ترقی کرتے چلے جائیں گےاور جوں جوں وہ ترقی کریں گے کفّار و مشرکین اُن کے مقابلہ میں روز بروز دبتے چلے جائیں گے۔اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًاۙ۰۰۳۲ یقیناً متقیوں کے لئے کامیابی مقدّر ہے۔حل لغات۔مَفَازٌ مَفَازٌفَازَ کا مصدر بھی ہو سکتا ہے اورظرف مکان کا صیغہ بھی۔اور فَازَ (یَفُوْزُفَوْزًا) کے دو معنے ہوتے ہیں۔ایک فَازَ مِنْ مَکْرُوْہٍ اور ایک فَازَ بِخَیْرٍ فَازَ مِنْ مَّکْرُوْہٍ کے معنے ہوتے ہیں نَجَا یعنی وہ بُری بات سے بچ گیا اور فَازَ بِخَیْرٍ کے معنے ہوتے ہیں ظَفَرَ بِہٖ اچھی بات اس کو حاصل ہو گئی۔(اقرب) مفردات میں ہے اَلْفَوْزُ: اَلظَّفَرُ بِالْخَیْرِ مَعَ حُصُوْلِ السَّلَامَۃِ۔یعنی کسی کا بہترین مقصود کو اس طور پر پالینا کہ وہ ہر قسم کے نقصان سے بھی محفوظ رہے فَوْز کہلاتا ہے۔(مفردات) پس اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاکے معنے ہوئے (۱)کہ متقیوںکو کامیابی حاصل ہو گی یعنی وہ تمام قسم کی بھلائیوں کو پالیں گے اور تمام مصائب سے اُن کونجات مل جائے گی (۲)یہ کہ متقیوں کو یقیناً خدا ایک ایسامقام عطا فرمانے والا ہے جہاں وہ مصائب سے نجات پا جائیں گے اور تمام قسم کی برکات اور کامیابیوں کو حاصل کرلیں گے۔ایک مقام تو اُخروی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ اس مقام میں نہ کسی قسم کا شر ہے اور نہ وہاں خیر کی کوئی کمی ہے بلکہ لَھُمْ مَا یَشَائُ وْنَ (الشوریٰ:۲۳)یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں اُن کو حاصل ہو جائے گے۔پس ایک تو وہ مقام ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی بعث بعد الموت والی زندگی۔ددسرے اس دنیا میں بھی مومنوں سے یہ وعدہ ہوتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرحمٰن :۴۷)کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقام سے ڈرتا ہے اُس کے لئے اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ جنت کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور اگلے جہان میں بھی وہ اس کے لئے جنت کے سامان پیدا کرے گا۔تفسیر۔اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًامیں مسلمانوں کو مصائب سے نجات ملنے کی پیشگوئی مَیں