تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 58
جَزَآءً وِّفَاقًا کے معنے ہوںگے اعمال کے مطابق جزاء۔تفسیر۔لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا یہ طَاغِیْنَ کا دوسرا حال ہے۔پہلا حال آیت لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا میں بیان ہے۔یعنی طاغیوں کا یہ حال بھی ہو گا کہ وہ نہیں چکھیں گے بَرْد اور نہ ہی شَرَاب اس حالت میں کہ وہ جہنّم میں ہوں گے جو ابن جریر نے معنے کئے ہیں کہلّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا والی آیت لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا سے متعلق ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ پھر عذاب کی نوعیت بدل جائے گی مگریہ معنے بالبداہت باطل ہیں۔کیونکہ اس صورت میں آیت کے معنےیہ بنتے ہیں کہ اَحْقَاب کے بعد اُنہیں راحت بھی میسّر آجائےگی اور پینے کے لئے پانی بھی ملنا شروع ہو جائے گا۔جب انہیں پانی بھی مل جائے گا اور راحت بھی میسّر آجائے گی تو پھر عذاب کس بات کا ہو گا۔اگر خالی پینے کا ذکر ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ صرف پانی پینے کے بعد بھی دکھ رہ سکتا ہے مگر یہاں توشَرَابًا کے ساتھ ہی بَرْدًا کا بھی ذکر آتا ہے اور بَرْدًا کے معنے نیند اور راحت کے بھی ہوتے ہیں۔پسلَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا کے معنے یہ ہوں گے کہ اَحْقَاب تک تو انہیں راحت نہیں ملے گی اور نہ پینے کے لئے پانی ملے گا مگر جب اَحْقَاب گزر جائیں گے تو پھر انہیں پینے کے لئے پانی بھی مل جائے گا اور نیند اور راحت کے سامان بھی میسّر آجائیںگے لیکن وہ رہیں گے دوزخ میں ہی۔پس یہ معنے بالبداہت غلط اور باطل ہیں۔لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا سے ابن جریر کا غلط استدلال دوسرے بَرْدًا وَلَا شَرَابًا میں بَرْدًا کو الگ بیان کیا گیا ہے اور شَرَابًا کو الگ بیان کیا گیا ہے جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں بَرْدًا سے ٹھنڈا پانی مراد نہیں بلکہ کچھ اور مراد ہے اور وہ معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ انہیں راحت کے سامان بھی میسّر نہیں آئیں گے۔چنانچہ بَرْد کے ایک معنےراحت کے بھی آتے ہیںچنانچہ لکھا اَلبَرْدُ: اَلرَّوْحُ وَالرَّاحَۃُ (فتح البیان) جہاں تک قیامت کا تعلق ہیلَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا کے معنے ظاہری بھی کئے جا سکتے ہیں کہ وہاں اُن کے لئے کوئی راحت کا سامان نہیں ہو گااور نہ انہیں پینے کے لئے کوئی چیز ملے گی سوائے گرم پانی اور غَسَّاق کے۔غَسَّاق کے معنے ہوتے ہیں سخت سرد پانی یا بد بودار پانی کے یا وہ پیپ جو زخموں میںسے بہتی ہے چنانچہ لُغت میں لکھا اَلغَسَّاقُ۔اَلْمُنْتِنُ۔اَلْبَارِدُالشَّدِیْدُالْبَرْدِ۔وَمَا یَقْطُرُمِنْ جُلُوْدِاَھْلِ النَّارِ وَصَدِیْدُھُم مِنْ قَیْحٍ وَ نَحْوُہٗ (اقرب) غَسَّاق کا لفظ بھی بتا رہا ہے کہ یہاں بَرد کے معنے راحت کے ہی ہیں کیونکہ غَسَّاق کے معنے ہیں سخت سرد۔پس یہ کہنا کہ انہیں وہاں سردی نہیں لگے گی بالبداہت باطل ہو گیا کیونکہ غَسَّاق کے معنے ہی سخت سرد کے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوزخیوں کو جو پانی ملے گاوہ سخت گرم ہو گا۔اسی طرح اُنہیں زخموں کا دھوون یعنی