تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 52
نہیں ہوں گے ورنہ تاویل کا ایسا دروازہ کھل جائےگاجو حقیقت سے بہت دُور لے جائے گاایسے قرینے بعض دفعہ معنوی ہوتے ہیں یعنی دُوسری آیات اُس پر دلالت کرتی ہیں یا دُوسرے شواہد اُس پر دلالت کرتے ہیں اور بعض دفعہ ظاہر ی ہوتے ہیں جیسے ال استغراقی آ جائے تو اس کے معنے جمع کثرت کے ہو جاتے ہیں یا کسی ایسے لفظ کی طرف اضافت ہو جو اُس کے ایسے معنے کر دے جو کثرت پر دلالت کرتے ہوں۔مگر بغیر کسی قرینے کے کسی لفظ کو اُن معنوں سے پھرا دینا جو وضع لغت کے لحاظ سے صحیح ہوں جائز نہیں ہو سکتا اور وضع لغت کے لحاظ سے اَحْقَاب کے معنے تین سے دس تک کے ہو سکتے ہیں۔پس اگر ہم اس کی آخری حد کو سمجھ لیں تو ہم دو کروڑ اٹھاسی لاکھ کو اس سے ضرب دے لیں گے بشرطیکہ ہم اَحْقَاب کے وہ معنے کریں جو تفاسیر میں کئے گئے ہیں۔لیکن ہمارے پاس ایک اور حدیث ایسی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ روایت کہ وہاں ہر دن ہزار سال کا ہوگا رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نہیں بلکہ غالباً یہود وغیرہ سے سنی ہوئی ہے۔دوزخ کے غیر ابدی ہونے کا ثبوت حدیث سے بزّاز نے ایک روایت ابو مسلم بن العلاء سے نقل کی ہے کہ انہوں نے سلیمان التیمی سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی یا نہیں ؟سلیمان التیمی نے جواب دیا کہ حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَعَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ وَاللّٰہِ لَایَخْرُجُ مِنَ النَّارِ اَحَدٌ حَتّٰی یَمْکُثَ فِیْھَا اَحْقَابًا قَالَ اَلْحُقْبُ بِضْعٌ وَّ ثَمَا نُوْنَ سَنَۃً کُلُّ سَنَۃٍ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَسِتُّوْنَ یَوْمًا مِمَّا تَعُدُّوْنَ (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا )یعنی مجھ سے بیا ن کیا نافع نے اُنہوں نے سنا عبدا للہ بن عمرسےاور عبداللہ بن عمر ؓ نے براہ راست رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا خدا کی قسم آگ میں سے کوئی نہ نکلے گا جب تک اُس میں اَحْقَابیعنی کئی حُقْب نہ رہ لے۔اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم دوزخ میں اَحْقَاب رہنے کے بعد وہاں سے نکلنے کے قائل ہیں مگر جن لوگوں کا عقیدہ اوپر بیان کیا گیا ہے اُن کے نزدیک اَحْقَاب سے مراد یہ ہے کہ دوزخ میں سے کوئی آدمی کبھی نہیں نکلے گا۔پس اس روایت نے اُن کے خیالات کی تردید کر دی اور یہ ظاہر ہو گیا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وَآلہٖ وسلم نے بھی اس کے معنے یہی لئے ہیں کہ اَحْقَاب کے بعد لوگ دوزخ میں سے نکل آئیں گے پھر آگے جو فرمایا گیا ہے کہ قَالَ اَلْحُقْبُ بِضْعٌ وَّثَمَانُوْنَ سَنَۃً کُلُّ سَنَۃٍ ثَلاثُ مِائَۃٍ وَسِتُّوْنَ یَوْمًا مِّمَّا تَعُدُّوْنَ یہ اگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے الفاظ ہیں تب بھی ان کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جنہوں نے یہ معنے کئے ہیںکہ حُقُبْ کا ہر دن ایک ایک ہزار سال کا ہوگا انہوں نے غلطی کی ہے اور یہ معنے انہوں نے یہود وغیرہ