تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 537
عجیب بات ہے کہ اِدھر وہ لوگوں کے گناہوں کو بخشتا نہیں اور اُدھر یہ کہا جاتا ہے کہ خدا محبت ہے۔حالانکہ غفور اور ودُود ہمیشہ اکٹھے ہوتے ہیں۔جو غفور ہو گا ضرور ہے کہ وہ ودُود ہو اور جو ودُود ہو گا ضرور ہے کہ وہ غفور ہو۔یہاں یہ دونوں صفات اکٹھی کر کے عیسائیت کے اِس عقیدہ کی خدا تعالیٰ نے تردید کر دی ہے کہ لوگوں کے گناہوں کو بخشنا اُس کے عدل کے خلاف ہے۔ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُۙ۰۰۱۶ (وہ) بزرگ عرش کا مالک (ہے)۔تفسیر۔فرماتا ہے وہ عرش والا ہے۔اور بڑی بزرگی والا ہے۔یہاں ذوالعرش اس لئے کہا گیا ہے کہ عیسائی دُنیا نے ایک وقت یہ دُعاشروع کی جو اپنی غلط فہمی سے اب تک کرتے چلے آتے ہیں۔کہ ’’اے خدا تیری بادشاہی آئے۔تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔‘‘ (متی باب ۶ آیت۱۰)اُنیس سو سال اُن کو یہ دُعا کرتے ہوئے گذر گئے مگر اُن کے نزدیک اب تک خدا کی بادشاہت آسمان سے زمین پر نہیں آئی۔فرماتا ہے اے عیسائیو! تم یہ کیا کر رہے ہو وہ خدا تو عرش والا ہے اور مجد والا ہے اُنّیس سو سال پہلے اگر اُس نے تمہیں یہ دُعا سکھائی تھی اور پھر اُنیس سو سا ل تک اُس نے اِس دعا کو نہ سنا اور زمین پر خدا کی بادشاہت نہ آئی تو وہ ذوالعرش المجید کس طرح رہا۔حالانکہ وہ ذوالعرش ہے۔وہ بڑی بزرگی کا مالک ہے۔وہ جب کہتا ہے کہ اُس کی بادشاہت زمین پر آجائے تو پھر وہ آنے سےرُکا نہیںکرتی۔چنانچہ خدا کی بادشاہت آسمان سے زمین پر پہلے مسیح ناصری ؑ کے ذریعہ آئی پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آئی اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدا کی بادشاہت تیسری بار آسمان سے زمین پر آگئی ہے مگر وہ ابھی تک یہی دُعا مانگتے چلے جا رہے ہیں کہ اے خدا جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر آوے۔فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُؕ۰۰۱۷ جس بات کا ارادہ کرے اُسے کر کے رہنے والا ہے۔تفسیر۔وہ جس کام کا ارادہ کرلے اُسے کر کے رہتا ہے مگر تم یہ کہتے ہو اُس نے اپنی بادشاہت آسمان سے