تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 538

زمین پر لانے کا ارادہ تو کیا تھا مگر اب تک وہ اپنے اِس ارادہ کو پُورا نہیں کر سکا حالانکہ پہلا مسیح ؑ آیا اور اُس کے ذریعہ خدا کی بادشاہت زمین پر آگئی پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اُ ن کے ذریعہ خدا کی بادشاہت زمین پر آگئی اور اب تیسری دفعہ پھر مسیح موعودؑ کے ذریعہ خدا کی بادشاہت آسمان سے زمین پر آ گئی ہے مگر تم ابھی وہیں بیٹھے یہ دعا کر رہے ہو کہ اے خدا تیری بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے اُسی طرح زمین پر بھی آئے۔هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ۰۰۱۸فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ۰۰۱۹ کیا تمہیں (دشمنان صداقت کے) لشکروں کی خبر نہیں ملی۔(یعنی) فرعون اور ثمود کے لشکروں کی۔تفسیر۔فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدُ۔جُنُوْد کا بدل ہے۔کہ کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے۔اِس کے بعد اُن جنود کے سرداروں کا نام لے لیا کہ وہ لشکر جو فرعون اور ثمود کے تھے۔مطلب یہ کہ یہ کوئی چُھپی ہوئی بات نہیں کہ ہم نے اُن دشمنوں سے کیا کیا تھا بلکہ یہ بالکل ظاہربات ہے۔پھر اگر تمہیں فرعون اور ثمود کے لشکروں کی بربادی کی خبریں معلوم ہیں تو کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے اور کیوں مخالفت میں بڑھتے جا رہے ہو۔بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ تَكْذِيْبٍۙ۰۰۲۰ حقیقت تو یہ ہے کہ کافر (شدید) انکار (کی مرض) میں (مبتلا) ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے اِن کفار کے قلب کی حالت ایسی ہو گئی ہے جو تکذیب والی ہے۔کتنی ہی مثالیں اُن کے سامنے موجود ہوں یہ انکار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اور جب کسی کے قلب کی حالت ایسی ہو جائے کہ وہ ہر بات کی مخالفت کرنا اپنے لئے ضروری قرار دے لے تو پھر اُسے ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ ہدایت اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان غور سے کام لے اور جب اُس نے غور ہی نہ کرناہو تو ہدایت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ ہمیشہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخالفین کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک نٹ بڑے لمبے بانس پر چڑھ جاتا اور رسّے پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح کبھی پتلے بانس پر پائوں رکھ کرکھڑا ہو جاتا ہے۔اور جب یہ کرتب دکھا دیتا ہے تو کہتا ہے کیوں دکھایا نا کرتب۔اِس پر اُنہی میں سے ایک شخص جو نیچے کھڑا ہوتا ہے سر ہلا کر کہہ دیتا ہے کہ مَیں نہ مانوں۔اِس پر وہ دوسرا کرتب دکھاتا ہے اور