تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 526
پیش کی جاتی ہے جو غیبی ہوں یا آئندہ زمانہ میں رُونما ہونے والے ہوں۔پس جبکہ قرآن کریم میںکوئی قسم ایسی نہیں جو ماضی کے واقعات پر کھائی گئی ہو تو بائیبل کے اِس واقعہ کو قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ والی آیت پر چسپاں کرنا قرآنی طریق کے خلاف ہے اور عقل کے بھی خلاف ہے۔ایک تاریخی واقعہ جو گزر چکا ہے اُس پر اللہ تعالیٰ کو قَسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہو سکتی تھی۔مَیں اِس کا مُنکر نہیں کہ گزشتہ زمانہ میں بھی کوئی ایسا واقعہ ہوا ہو۔مَیں صرف یہ کہتا ہوں کہ اگر گزشتہ زمانہ میں کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ ایسا ہی واقعہ پھر کوئی ہونے والا ہے۔پس میرے نزدیک قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۔النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۔اِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُوْدٌ کے ذریعہ ایک دوسری پیشگوئی شروع کی گئی ہے۔پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ مسیح موعود ؑ ظاہر ہو گا اور اسلام کو غالب کرے گا۔چنانچہ اِس کی دلیل یہ دی گئی تھی کہ ماضی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ احیائِ اسلام کے لئے ہمیشہ مجددین مبعوث کرتا رہا ہے۔پس ضروری ہے کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے بالخصوص اس لئے کہ ہم ایک موعود کی بعثت کی خبر دے چکے ہیں۔اب یہ بتاتا ہے کہ یومِ موعود آسانی سے نہیں آئے گا بلکہ اِس کے لئے مومنوں کو بڑی بھاری قُربانیاں کرنی پڑیں گی۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یومِ موعود کے متعلق بڑا زور دیا گیا تھا اس لئے ممکن تھا جماعتِ موعود یہ خیال کر لیتی کہ یہ یومِ موعود خود بخود آجائے گا ہمیں اِس کے لئے کسی خاص جدوجہد سے کام نہیں لینا پڑے گا۔سو خدا تعالیٰ نے قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۔النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ کے ذریعہ اِس خیال کا ازالہ کر دیا اور بتایا کہ یہ یومِ موعود آئے گا تو سہی مگر تمہیں اپنی جانوں کو اِس راہ میں قربان کرنا پڑے گا اور مخالفین کے جور وستم اور اُن کے بھیانک مظالم کا ایک عرصہ تک تختۂ مشق بننا پڑے گا۔اسلام کے زندہ کرنے کے لئے مصائب کا برداشت کرنا ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی جماعت کو بارہا اِس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی ہم سے موت کا مطالبہ کرتی ہے۔اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ بغیر اُن قربانیوں کے جو صحابہؓ نے کیں یا بغیر اُن قربانیوں کے جو سابق انبیاء ؑ کی اُمتیں بجا لائیں ہم اپنے مقصود کو حاصل کر لیں گے تو ہم سے زیادہ احمق اور غلطی خوردہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔اسلام اور احمدیت کی ترقی ہماری قربانیوں کے ساتھ وابستہ ہے اور یہی وہ موت ہے جس میں حقیقی زندگی پائی جاتی ہے۔چنانچہ آپؑ اسلام اور احمدیت کی ترقی کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’سچائی کی فتح ہو گی اور اسلام کے لئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی