تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 525
اُن کی پوشاک میں مطلق کچھ فرق ہوا اور نہ آگ سے جلاہٹ کی بُو اُن پر سے معلوم ہوتی تھی۔تب بنو کد نضر نے پکار کے کہا کہ سدرک اور میسک اور عبیدنجُو کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے فرشتے کو بھیجا اور اپنے بندوں کو جنہوں نے اُس پر توکل کر کے بادشاہ کے حکم کو ٹال دیا ہے اور اپنے بدنوں کو نثار کیا کہ سوا اپنے خدا کے دوسرے معبود کی عبادت اور بندگی نہ کریں چھڑایا ہے اس لئے مَیں حکم کرتا ہوں کہ جو قوم یا گروہ یا اہل لغت سدرک اور میسک اور عبید نجُو کے خدا کے حق میں کوئی نالائق سخن بولیں گے تو اُن کے ٹکڑے ٹکرے کئے جائیںگے۔اور اُن کے گھر گھورے بن جائیں گے۔کیونکہ کوئی دوسرا خدا نہیں جو اِس طرح چھڑا سکے۔تب بادشاہ نے سدرک اور میسک اور عبید نجُو کو صوبہ بابل میں سرفراز کیا۔‘‘ (دانی ایل باب ۳) یہ ایک واقعہ ہے جو گزشتہ زمانہ میںہوا۔اور جس کومفسرین نے بھی بیان کیا ہے وہ اس میں دانیال کو بھی شامل کر دیتے ہیں مگر یہ اُن کی غلطی ہے۔اور اِس غلطی کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُس وقت بائیبلیں کثرت سے نہیں تھیںاس لئے غلطی سے انہوں نے دانیال کو بھی اس میں شامل سمجھ لیا۔بہرحال یہ ایک واقعہ ہے جو گزشتہ زمانہ میں ہوا۔اُس میں ایک بھٹی کا بھی ذکر آتا ہے۔یہ بھی آتا ہے کہ اس میں آگ جلائی گئی۔یہ بھی آتا ہے کہ اُس میں تین آدمی پھینکے گئے۔اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بادشاہ اور اُس کے ساتھی اِس نظارہ کودیکھتے رہے۔اس حد تک تو درست ہے لیکن اِس کے واقعات پورے طور پر قرآنی واقعات سے نہیںتھے۔کیونکہ قرآن کریم نے اُن کے متعلق یہ نہیں بتایا کہ وہ آگ میں سے زندہ نکل آئے تھے۔بائیبل میں چونکہ مبالغہ بھی ہے اس لئے ممکن ہے اتنا حصہ بعد میں بڑھا لیا گیا ہو۔اور اِس حد تک بات درست ہو کہ کچھ لوگوں کو محض اس لئے آگ کی بھٹی میں جلا دیا گیا ہو کہ وہ کیوں خدائے واحد پر ایمان لاتے ہیں۔قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِمیں آئندہ زمانہ میں ہونے والے واقعات کی پیشگوئی ایسا ہر زمانہ میں ہوتا رہا ہے۔اور ہر نبی کے وقت دشمنانِ دین کی طرف سے خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کو قِسم قِسم کے عذابوں میں مبتلا کیا گیا ہے۔لیکن میرا یہ یقین ہے کہ جب اِ س سورۃ کو وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ وَشَاھِدٍ وَّمَشْھُوْدٍ کے الفاظ سے شروع کیا گیا ہے تو شہادت کسی ایسے واقعہ کے متعلق ہی ہوتی ہے جو آئندہ زمانہ میں ہونے والا ہو۔قرآن کریم میں تم یہ کہیں نہیں دیکھو گے کہ خدا نے کہا ہو میں سورج اور چاند کو اِس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں کہ مَیں نے آدم ؑ بھیجا تھا۔یا نوح ؑ بھیجا تھا۔یا ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کو مبعوث کیا تھا۔شہادت ایسے ہی امور کے متعلق