تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 527
ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں۔اور ہم سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزازِ اسلام کے لئے ساری ذلّتیں قبول نہ کر لیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اِسی راہ میں مرنا۔یہی مَوت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلّی موقوف ہے۔‘‘ (فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۰ تا۱۱) اِسی طرح فرماتے ہیں۔’’دُنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جُدا کرتی ہیں۔اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔وہ درد جس سے خدا راضی ہو اُس لذت سے بہتر ہے جس سے خُدا ناراض ہو جائے۔اور وہ شکست جس سے خدا راضی ہو اُس فتح سے بہتر ہے جو موجبِ غضبِ الٰہی ہو۔اُس محبت کو چھوڑدو جو خدا کے غضب کے قریب کرے۔اگر تم صاف دل ہو کر اُس کی طرف آ جائو تو ہر ایک راہ میں وہ تمہاری مدد کرے گااور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔خدا کی رضا کو تم کِسی طرح پا ہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر اپنی لذات چھوڑ کر۔اپنی عزت چھوڑ کراپنا مال چھوڑ کر۔اپنی جان چھوڑ کر اُس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھائو جو مَوت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تم تلخی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آ جائو گے اور تم اُن راستبازوں کے وارث کئے جائو گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ ’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گااور پُھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے۔اور درمیان میں آنے والے ابتلائوں سے نہ ڈرے۔کیونکہ ابتلائوں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٔ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔وہ جو کسی ابتلاسے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اُس کو جہنم تک پہنچائے گی۔اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اُس کے لئے اچھا تھا۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دُنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے