تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 519
وَشَاھِدٌ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَشْھُوْدٌ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ۔(ابن کثیر زیر آیت شاھد و مشھود) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یومِ موعود یومِ قیامت ہے۔شاہد یومِ جمعہ ہے۔مشہود یومِ عرفہ ہے۔اِسی طرح شاہد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشہود قیامت کا دن ہے۔اِس حدیث کی صحت سے ہم کو انکار نہیں۔درحقیقت یومِ موعود بہت سے ہیں۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ جنگ بدر کا دن بھی یومِ موعود تھا کیونکہ اس جنگ کی قرآن کریم میں پیشگوئی موجود ہے۔اِسی طرح جنگِ احزاب بھی موعود تھی کیونکہ اس کی پیشگوئی کی گئی تھی۔فتح مکہ کا دن بھی یومِ موعود تھا کیونکہ اِ س فتح کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی کی گئی تھی(القمر:۴۶، الفتح :۲، الاحزاب:۱۲)۔پس ہمیں اس سے انکار نہیں کہ اور بھی کئی یوم موعود ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہاں جس یومِ موعود کا ذکر ہے وہ ایسا موعود ہے جس نے اس واقعہ کے بعد آنا ہے جس کا ذکر’’ ذات البروج‘‘ میں ہے اور ’’ذات البروج‘‘ کے بعد آنے والا یوم موعود نہ قیامت کا دن ہو سکتا ہے اور نہ کوئی اور ہو سکتا ہے۔بلکہ اِ س جگہ وہی موعود مراد ہو سکتا ہے جس نے بارہ بروج کے بعد تیرہویں صدی میں ظاہر ہونا تھا۔کِسی لفظ میں اشتراک کے یہ معنے نہیں ہوا کرتے کہ اس لفظ کے ہر جگہ ایک ہی معنے لئے جائیں بلکہ وہ لفظ اپنے موقع اور محل کے مطابق الگ الگ معنے دے گا۔پس بے شک بدر یومِ موعود ہے۔احزاب یومِ موعود ہے۔فتح مکّہ یوم موعود ہے۔اور ہمیں اِس سے ہر گز انکار نہیں۔مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ کے بعد جس موعود کا ذکر ہے وہ سوائے مسیح موعود ؑکے اور کوئی نہیں۔اور وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ میں بھی اسی موعود کی خبر دی گئی تھی۔اگر اِس جگہ یومِ موعود سے مراد مسیح موعود نہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ کون سی طاقت تھی جس نے اگلی اور پچھلی آیات میں ایسا جوڑ پیدا کر دیا کہ اُن سے جو بات بھی ثابت ہوتی ہے مسیح موعود پر چسپاں ہو جاتی ہے۔قرآن کریم کا ایک طر ف وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ کہنا پھر وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ کہہ کر شہادت میں بُروج کو پیش کرنا اور پھر علمِ ہیئت کی طرف سے اِس تحقیق کا ہونا کہ بُروج بارہ ہیں یہ سب کچھ بتا رہا ہے کہ جو کچھ ہوا الٰہی تصرف کے ماتحت ہوا۔اِسی طرح اگلی آیت میں شاہد اور مشہود کا ذکر آتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ شاہد ہزاروں ہوئے ہیں بلکہ ہر نبی شاہد ہوتا ہے۔کیا دنیا میں کوئی بھی نبی ایسا ہوا ہے جس نے دلائل اور معجزات اور بیّنات سے اللہ تعالیٰ کے وجود کی گواہی پیش نہ کی ہو۔یقیناً ہر نبی ایسا کرتا رہا۔پس ہر نبی شاہد ہے۔اِن معنوں میں کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اُس کی قدرت اور اُس کے جلال کا ایک زندہ گواہ ہوتا ہے۔اور ہر نبی مشہود ہوتا ہے کیونکہ جب وہ دنیا میں آتا ہے خدا تعالیٰ اُس کی صداقت کے ثبوت مہیّا کرتا ہے۔پس وہ خدا تعالیٰ کے لئے شاہد ہوتا ہے۔اور چونکہ خدا اُس کی صداقت کے لئے نشانات و معجزات ظاہر کرتا ہے اس لئے وہ مشہود بھی ہوتا ہے۔اِسی طرح ہر نبی کے زمانہ میں خدا شاہد ہوتا ہے