تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 518
بتائے گئے تھے۔جس کا وقت اور جس کا زمانہ تک پیشگوئیوں میں معیّن کر دیا گیا تھا تم نے اُس کا انکار کر دیا۔بلکہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد انہوں نے یہاں تک کہنا شروع کر دیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے کِسی مصلح کی ضرورت ہی نہیں۔فرماتا ہے تم کو آج بارہ صدیوں کے بعد یہ بات سُوجھی ہے۔بارہ صدیوں تک تم مانتے چلے آئے کہ احیائِ اسلام کے لئے مجدّدین کی ضرورت ہوتی ہے۔اسلام کی ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی انسان کے مبعوث ہونے کی احتیاج ہوتی ہے۔مگر جب تیرہویں صدی آئی اور اُس میں ہم نے اپنا موعود مامور بھیج دیا تو تم نے اس کا انکار کر دیا۔بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت ہی نہیں۔فَمَالَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ اُن کو کیا ہو گیا کہ جو ہمارا موعود مامور تھا جس کی تفصیلات ہم نے پہلے سےبتادی تھیںجس پر ایمان لانے کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر تاکید فرمائی تھی۔جس کے درجہ اور شان کی تفخیم بڑی کثرت سے بیان کی گئی تھی اُس پر ایمان لانے سے اِن لوگوں نے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ اسلام اپنی ترقی کے لئے آسمانی وجودوں کی بعثت کا محتاج ہے۔فرماتا ہے ہم اسلام کی ترقی کے لئے بارہ بروج کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح ایک ایک قدم پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی مدد فرمائی اور کفر کے حملوں کو نابود کرنے کے لئے اپنے مقدس لوگ کھڑے کرتا رہا۔پھر جب تیرہویں صدی آئی تو ہم نے اُس زمانہ میں بھی اپنا وہ موعود بھیج دیا جس کی ہم خبر دیتے چلے آئے تھے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے ہم پر قرآن کریم کی آیات کے یہ مطالب تو بعد میں کُھلے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا نام ہی ہماری جماعت میں مسیح موعودؑ پڑ گیاہے۔جس کے معنے یہی ہیں کہ یومِ موعودِ میں ظاہر ہونے والامسیح ؑ۔جس احمدیؐ سے بھی سنو۔خواہ وہ عالم ہو یا جاہل۔پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ۔اُسے یہی کہتے پائو گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یوں کہا۔یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی یہ دلیل ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے آپؑ کا نام ہی مسیح موعود رکھ دیا۔اور یہ لفظ اتنی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔کہ مہدی کا لفظ بھی غائب ہو گیا ہے۔حالانکہ مہدی کا لفظ حدیثوں میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔مگر چونکہ قرآن کریم میں اس کو موعود قرار دیا گیا تھا اس لئے خدا نے اپنے تصرّف سے مسیح موعودؑ کے الفاظ دنیا میں رائج فرما دئیے۔یوم موعود سے مراد حدیثوں میں آتا ہے عَنِ ابْنِ اَبِیْ حَاتِمٍ وَابْنِ جَرِیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْیَوْمُ الْمَوْعُوْدُ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَشَاہِدٌ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَمَشْہُوْدٌ یَوْمُ الْعَرَفَۃِ