تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 517

ٹھہرتے ہیں۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ صدیوں میں مختلف مجددین ظاہر ہوئے اور وہ الٰہی منشاء کے مطابق تجدید دین کا کام کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ اُن مجددین کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اگر ہم اُمُت محمدیہ کے تھوڑے سے اختلاف اور اسلام اور مسلمانوں کی تھوڑی سی مصیبت کو دُور کرنے کے لئے مجددین مبعوث کرتے رہے ہیںتو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اسلام پر ایک بھاری مصیبت آجائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کو دُور کرنے کا کوئی سامان نہ ہو۔وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِمیں آخری زمانہ میں بارہ مجددین کے بعد ایک مامور کے مبعوث کئے جانے کی پیشگوئی پس وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ کو فَمَالَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ کے جواب میں مخالفین کے سامنے ایک دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم آسمان کو اور اُس کے بارہ مقامات کو تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔جن میں ستاروں نے قیام کیایعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مختلف مجدد مبعوث ہوتے رہے۔مجددین کے اِس متواتر اور پَے در پَے ظہو ر کے بعد تیرہویں مقام پر آکر تمہیں کیوں مایوسی پیدا ہو گئی اور کیوں تم نے یہ خیال کر لیا کہ اللہ تعالیٰ اب لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے کسی مامور کو مبعوث نہیں کرے گا۔تمہارے پاس شہادت موجود ہے کہ پہلی صدی آئی اور اُس میں خدا تعالیٰ نے ایسے آدمی کھڑے کئے جو تجدید دین کا کام کرتے رہے۔دوسری صدی آئی اور اُس میں خدا تعالیٰ نے ایسے آدمی کھڑے کئے۔تیسری صدی آئی تو پھر یہی واقعہ ہوا۔چوتھی صدی آئی تو پھر بھی ایسا ہی ہوا اور یہ سلسلہ چلتا چلا گیا یہاں تک کہ بارہ صدیوں میں بارہ دفعہ تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ثبوت مہیّا کیا کہ وہ اپنے دین کی مدد اور اُس کی نصرت کے لئے ہمیشہ ایسے آدمی کھڑے کیا کرتا ہے جو اُس کی طرف سےمظفّر و منصور ہوتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم دنیا میں پھیلاتے ہیں۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ بارہ جو غیر موعود تھے اُن کو توتم نے مان لیا مگر تیرہواں جو موعود تھا اُس کی بعثت کو تسلیم کرنے سے تم نے انکار کر دیا۔حالانکہ باقی وہ ہیں جن کے متعلق محض مبہم الفاظ میں خبر دی گئی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق صرف اتنا فرمایا تھا کہ اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَادِیْنَھَا (سنن ابی دائود کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائۃ) مگر تیرہویں کا نام لے کر بتایا گیا تھا کہ وہ ایسا ایسا ہو گا اِس اِس طرح کے کام کرے گا اِن اِن علامات کے ساتھ آئے گا۔یہ یہ نشانات اُس کی صداقت میں ظاہر ہوں گے۔پس وہ غیر موعود جو ایک مبہم خبر کے نتیجہ میں ظاہر ہوئے تھے تم نے اُن کو تو مان لیا مگر وہ جس کا نام لے کر خدا نے خبر دی تھی۔جس کی بعثت کے اُس نے نشانات بتائے تھے۔جس کی تعیین کے کئی شواہد