تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 516

(۱۰)اَلْجدِّیُّ (۱۱) اَلدَّلْوُ (۱۲)اَلْحُوْتُ بعض کہتے ہیں کہ سات سیّارے اِن بارہ بُرجوں میں چکّر کھاتے ہیں۔اور گو بروج بارہ ہی ہیں مگر خصوصیت کے لحاظ سے وہ سات سیّاروں سے مخصوص ہیں۔چنانچہ (۱)مریخ کے لئے حمل اور عقرب (۲)زہرہؔ کے لئے ثور اور میزان (۳)عطاردؔ کے لئے ہیں جوزاء اور سُنبلہ (۴)قمرکے لئے سرطان (۵)شمسؔ کے لئے اسد (۵)مشتریؔ کے لئے قوس اور حُوت (۷)زحلؔ کے لئے جدّی اور دَلْومخصوص ہیں۔ابن مردویہ جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بروج کیا چیز ہیں تو آپؐ نے فرمایا اَلْکَوَاکِبُ (روح المعانی زیر آیت ھذا)یعنی اُن سے مرادکواکب ہیں۔غرض بُرج کا لفظ لُغت کے لحاظ سے ایسے مقام کے لئے بولا جاتا ہے جہاں بادشاہ یا اُمراء ٹھہرتے ہوں۔اور علم ہیئت والوں کی اصطلاح میں جو رائج ہو چکی ہے بُرج یا تو ستاروں کو اور یا پھر سیّاروں کی گردش کے دائرہ کو کہتے ہیں جہاں وہ گردش کرتے ہیں۔بہرحال پرانی ہیئت اِس بات پر متفق ہے کہ بُرج بارہ ہیں۔اِس بناء پر آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم شہادت کے طور پر آسمان کو پیش کرتے ہیں جس میں بارہ بُرج ہیں۔یعنی بارہ ایسے مقام ہیں جہاں ستارے ٹھہرتے ہیں۔وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ اور پھر ہم شہادت کے طور پر یومِ موعود کو پیش کرتے ہیں۔اگر بُرج کے معنے بارہ مقامات کے لئے جائیں تو یہ یومِ موعود تیرھواں مقام ہوا۔گویا بارہ مقاموں کو بھی اور یوم موعود کو بھی اللہ تعالیٰ شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے۔اور بارہ اور یومِ موعود مل کر تیرہ ہو گئے۔جب ہم اس کو وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ والی آیت سے ملاتے ہیں تو پہلی سورت سے اس کی ترتیب بالکل واضح ہو جاتی ہے وہاں فرمایا تھا ہم شہادت کے طور پر چاند کو پیش کرتے ہیں جب وہ تیرہویں رات میں داخل ہوتا ہے۔اور یہاں فرمایا گیا ہے ہم بارہ بروج اور یومِ موعود کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔پس یہاں بھی تیرہ زمانوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔اور اس طرح اس کا ایک گہرا تعلق پچھلی سورۃ سے ثابت ہو گیا۔سورئہ بروج کا پہلی سورۃ سے تعلق یہاں درحقیقت اُس مضمون کو بیان کیا گیا ہے جو پچھلی سورۃ میں بیان کیا گیا تھا۔مگر شکل اور ہے۔اور جو کچھ پچھلی سورۃ میں بیان کیا گیا تھا اُس کی صداقت کی ایک دلیل بھی اِس سورۃ میں بیان کی گئی ہے۔پچھلی سورۃ میں فرمایا تھا فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے۔جو چیز اپنی ابتدائی حالت میں ہوتی ہے اُس پر ایمان لانا لوگوں کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اِس سورۃ کو شروع ہی اِس رنگ میں کیا ہے کہ ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اُن بارہ مقامات کو جہاں ستارے آکر