تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 47
اَور یا مکّہ والوں کے ساتھ مل جائیں چنانچہ کچھ لوگ ادھر آگئے اور کچھ لوگ اُدھر چلے گئے وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُاور آسمان پر سے عذاب نازل ہونا شروع ہو جائے گا۔نفخ صور سے مراد نفخِ صور سے اگر صلح حدیبیہ مرا د لے لو تو اِن آیات کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک ایسا واقعہ رونما ہو گا جس سے عرب قبائل میںبے چینی پیدا ہو جائے گی اور اُن کے دلوںمیں یہ خیال پیدا ہونا شروع ہو جائے گا کہ اب اُنہیں کُھلے طور پریااسلام میں شامل ہونا چاہیے۔یا مکہ والوں کے ساتھ مل جانا چاہیے چنانچہ صلح حدیبیہ کے وقت سے لوگوں میں یہ احسان پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ اب معاملہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہم یا محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے ساتھ رہ کر بچ سکتے ہیں یا مکّہ والوں کے ساتھ رہ کر بچ سکتے ہیں چنانچہ اسی خیال کے زیرِ اثر کچھ قبائل رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے ساتھ مل گئے اور کچھ قبائل کفّار کے ساتھ مل گئے گویا یَوْمُ الْفَصْل کی بنیاد صلح حدیبیہ نے رکھ دی۔وَ فُتِحَتِ السَّمَآءُ اور آسمان کھولا جائے گافَکَانَتْ اَبْوَابًا اور وہ دروازے دروازے بن جائے گا۔اِن معنوں کے لحاظ سے فَکَانَتْ اَبْوَابًا کا یہ مفہوم ہو گا کہ آسمان سے کفّار پر عذاب نازل ہوں گے اور مومنوں پر اُس کی رحمت کی بارش برسے گی گویا آسمان ابواب ابواب ہو جائے گا۔کچھ دروازے ایسے ہوںگے جن سے خیر نازل ہو گی اور کچھ دروازے ایسے ہوں گے جن سے عذاب نازل ہو گا ہی پہلے بھی مسلمانوں پر آسمان سے خیر نازل ہوئی تھی مگر وہ ایسی ہی تھی جیسے چھیدو ں میں سے کوئی چیز گرائی جاتی ہے لیکن صلح حدیبیہ کے بعد یہ خبر اس طرح مسلمانوں پر گرنے لگی جیسے بڑے بڑے دروازوںمیں سے کوئی چیز گرتی ہے۔اسی طرح کفّار پر کثرت سے عذاب آنے شروع ہو گئے۔گویا آسمان سے رحمت کے سامان بھی نازل ہونے لگ گئے اور عذاب کے سامان بھی نازل ہونے شروع ہو گئے۔سُيِّرَتِ الْجِبَالُ سے مراد صنادید عرب کی تباہی وَ سُيِّرَتِ الْجِبَالُ۔جِبَال کے معنے سردارانِ قوم کے بھی ہوتے ہیں۔پس سُیِّرَتِ الْجِبَالُ کے یہ معنے ہوئے کہ بڑے بڑے صنادید عرب اور وہ بڑے بڑے سردار جن پر اہلِ عرب کو ناز ہے اپنے گھروں سے نکالے جائیں گے۔فَکَانَتْ سَرَابًا اور وہ سراب کی طرح ہو جائیں گے یعنی ثابت ہو جائے گاکہ اُن میں کوئی ایسا لیڈر نہیں جو قوم کی صحیح راہنمائی کرنے والا ہو۔بلکہ سب کے سب لیڈر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے مقابلہ میں ناکام رہیں گے۔سَرَابًا کا لفظ جو اس جگہ رکھا گیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ سَرَاب نصف النہار میں نظر آیا کرتا ہے۔اس لفظ میں اس امرکی طرف بھی اشارہ تھا کہ جب محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کا سورج نصف النہار پر پہنچے گا اور اُس کی چمک لوگوں کی آنکھوں کو خیر ہ کر دے گی اُس وقت اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلّم کے مقابلہ میں اُن کے لیڈر کیسے ناکام اور کس قدر عقل وخرد سے عاری ہیں۔چنانچہ