تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 46

عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ میں جس معاہدے کا ذکر ہے وہ دُنیوی معاہد ہ ہے اور پہلی آیت میں جس معاہدے کا ذکر آتا ہے اس سے الہامی معاہدہ مراد ہے یعنی وہ معاہدہ جس کا الہامی طور پر ذکر کیا گیا تھا اور جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ اگر وہ جھوٹا نکلے تو تمہارا حق ہے کہ گرفت کرو اور کہو کہ تمہاری یہ بات کیوں پوری نہیں ہوئی۔ایک عہد یکطرفہ ہوتا ہے جس میں انسان خود اپنے نفس سے کوئی عہد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں ایسا کرو ں گا۔اُس کے متعلق کوئی دوسرا شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔لیکن وہ معاہدہ جو فریقین میں ہو یا وہ وعدہ جو دو جماعتوں سے تعلّق رکھتا ہو اُس میں دوسرے کو پکڑنے اور گرفت کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اگر وہ بات پوری نہ ہوتو دوسرا کہہ سکتا ہے کہ تم تو کہتے تھے فلاں بات اس طرح ہو گی مگر پھر وہ اُس طرح ہوئی نہیں۔اس قسم کے معاہدات میں پیشگوئیاں بھی شامل ہیں کیونکہ اُن کے متعلق بھی کفاّر یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں تو پھر وہ پوری کیوں نہ ہوئیں۔پس ایک ہی رکوع میں دوجگہ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ کے الفاظ استعمال کرنا اور ایک جگہ تو یہ کہنا کہ جن مشرکوں سے یہ عہد تھا اُن کوچار ماہ کا نوٹس دے کر مکّہ سے نکال دو اور دوسروں کے متعلق یہ کہنا کہ اُن سے جو معاہدہ ہو چکا ہے اُس کو پورا کرو بتا رہا ہے کہ پہلے روحانی معاہدے کا ذکر تھا اور اب جسمانی معاہدے کا ذکر ہے۔اس جسمانی معاہدہ کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم نے اِسے نہیں توڑنا ہاں اگرکفّار توڑ دیں تو اَور بات ہے۔لیکن اگر اُن کی طرف سے نقضِ عہد نہ ہو تو پھر معاہدہ کی جو بھی معیاد ہے اُس معیاد تک تمہاری طرف سے یہ پوری کوشش ہونی چاہیے کہ اُس کا احترام کرو۔چنانچہ فرماتا ہےفَاَتِمُّوْۤا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ اس میں چار ماہ کی کوئی شرط نہیں اگر دو سال کا معاہدہ ہے تو دو سال پورے کرو اور اگر چار سال کا معاہدہ ہے تو چار سال پورے کرو اور اگر چھ سال کا معاہدہ ہے تو چھ سال پورے کرو۔غرض جتنی مدّت مقرر ہے اُس مدّت تک معاہدے کو پورا کرو۔غرض اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًامیں قرآن اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے غلبہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور کفّار کو بتایا گیا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب نہ صرف مسلمانوں کو تم پر غلبہ حاصل ہو جائے گا بلکہ اس غلبہ کے ساتھ ہی تم کو مکّہ سے نکال دیا جائے گا۔اب اگلی آیات میں اس غلبہ کا وقت بتایا گیا ہے فرماتا ہے يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا جس دن صور پھونکا جائے گااور تم فوج در فوج کی صورت میں آئو گے وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُاور آسمان کھول دیا جائے گا۔فوج در فوج اور گروہ در گروہ لوگوں کےآنےکی خبر اُس وقت پوری ہوئی جب مکّہ فتح ہوا بلکہ صلح حدیبیہ کے بعد ہی سارے عرب میں ایک ہلچل سی مچ گئی تھی اور فتح مکّہ کی جنگ درحقیقت اسی ہلچل کا نتیجہ تھی کیونکہ عربوں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا کہ اب اُن کے لئے دو ہی صورتیں ہیں یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مل جائیں