تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 505
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ۰۰۲۰ تم ضرور درجہ بدرجہ ان حالتوں پر پہنچو گے۔حَلّ لُغَات۔اَلطَّبَقُ اَلطَّبَقُکے معنی ہیں اَلْقَرْنُ مِنَ الزَّمَانِ ایک صدی۔اَلنَّاسُ ایک زمانہ کے لوگ اَلْجَمَاعَۃُ جماعت۔اَلْحَالُ۔حال (اقرب) اَلطَّبَقُ۔اَلْمُطَابَقَۃُ (مفردات) تفسیر۔فرماتا ہے ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم ضرور ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ پر جائو گے۔لَتَرْکَبُنَّ میں لام اور نون مشدّد لانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اگر یہ آیات اپنے اندر کوئی اہم پیشگوئی نہیں رکھتی تھیں۔اس آیت کی بناوٹ ہی واضح کر رہی ہے۔کہ ان آیات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر چسپاں کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔بلکہ یہ واقعات آئندہ زمانہ کے متعلق بطور پیشگوئی بیان کئے گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ شفق کا کوئی سوال پیدا ہو سکتا تھا۔نہ انتہائی تاریک رات کا اور نہ اس وقت کوئی قمر تھا جو اتساق اختیار کر کے بدر بن گیا ہو۔پس یہ آیات قطعی طور پر بعد کے زمانہ سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ میں عن کے معنے بعد کے عَنْ کے عربی زبان میں بہت سے معنی ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہیں کہ عَنْ علاوہ اور معنوں کے بعد کے معنی بھی دیتا ہے جیسے کہتے ہیں عَنْ قَلِیْلٍ اَزُوْرُکَ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ بَعْدَ قَلِیْلٍ اَزُوْرُکَ اس جگہ بھی عَنْ کے معنی بعد کے ہی ہیں اور مراد یہ ہے کہ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا بَعْدَ طَبَقٍ یعنی تم ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ تک پہنچو گے۔جیسا کہ حل لغات میں لکھا جا چکا ہے طبق کے معنی مطابق کے بھی ہوتے ہیں۔اور اس کے معنی حال کے بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح طبق کےایک معنی جماعت کے بھی ہوتے ہیں۔یہاں حالت اور جماعت دونوں معنی لگ سکتے ہیں یعنی ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں۔کہ تم ضرور ان چاروں حالتوں میں سے ایک کے بعد دوسری پر گزرتے ہوئے چلے جائو گے۔اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں۔کہ تم ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت پر سوار ہوتے جائو گے۔یعنی جس جس جماعت کے حالات بیان ہوئے ہیں۔اس جماعت کی حالت تم پر وارد ہوتی جائے گی۔اب دیکھ لو کس طرح خدا تعالیٰ نے ان تمام باتوں کو پورا کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامہر منور تین صدیوں تک دنیا کو روشن کرتا رہا۔اس کے بعد شفق کا زمانہ آیا۔جو بہت لمبا عرصہ رہا۔سید عبدالقادر صاحب جیلانی۔حضرت معین الدین صاحب چشتی۔حضرت محی الدین صاحب ابن عربی اور دُوسرے کئی بزرگ اِ س زمانہ