تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 506

شفق میں آئے۔اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور اور آپ کی تعلیم کو قائم رکھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت رات پڑ گئی تھی مگرپھر بھی کوئی شخص سورج کے وجود سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ شفق کی سُرخی موجود تھی۔اِس کے بعد بارہویں اور تیرھویں صدی میں تاریکی آئی اور ایسی بھیانک اور خطرناک شکل میں کہ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ کا نظارہ نظر آنے لگ گیا۔رات اپنے اندر جس قدر بلائیں جمع کر سکتی ہے۔وہ تمام بلائیں۔اور تمام آفتیں اور تمام مصیبتیں اُس تاریک رات نے اپنے اندر جمع کر لی تھیں۔وہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایسا تباہی کا زمانہ تھاکہ جس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔پھرا س انتہائی تاریک رات کے معًا بعد وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ کے مطابق ایک قمر بدر کی صورت اختیار کر گیا۔اور وُہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نُور دنیا تک پہنچانے لگ گیا۔حضرت مسیح موعود کا نور سہولویں صدی تک اِس پیشگوئی پر غور کرو اور دیکھو کہ یہ پیشگوئی نہ صرف معنًا پوری ہوئی بلکہ لفظًا لفظًا پوری ہوئی ہے۔چنانچہ اتساق کی تشریح کرتے ہوئے بتایا جا چکا ہے کہ تیرھویں رات سے سولہویں رات تک کے چاند کے لئے اتساق کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔یہ بات بھی نمایاں طور پر پُوری ہوئی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تیرھویں صدی میں پیدا ہوئے۔چودھویں صد ی میں آپ نے دعویٰ فرمایا۔اور پھر آپ نے بطور پیشگوئی اعلان فرمایا کہ مسیح موعود کا زمانہ تین سو سال تک ہے۔یعنی سولہویں صدی کے آخر تک۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔’’مسیح موعود کا زمانہ اس حد تک ہے۔جس حد تک اس کے دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والے اور یا پھر دیکھنے والوں کے دیکھنے والے دنیا میں پائے جائیں گے۔ا ور اس کی تعلیم پر قائم ہوں گے۔غرض قرونِ ثلاثہ کا ہونا برعائت منہاج نبوت ضروری ہے۔‘‘ (تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۷۸ بقیہ حاشیہ) اسی طرح فرمایا: ’’ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پُوری نہیں ہو گی کہ عیسٰی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑ یں گے۔اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا۔اور ایک ہی پیشوا مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے کے لئے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا۔اور اب وہ بڑھے گا۔اور پھولے گا۔اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے‘‘۔( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۷)