تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 504
باطل نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔پہلے شفق کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کے بعد انتہائی تاریک رات کا اور اس کے بعد قمر کا جو اپنی منازل طے کر کے بدر بن جاتا ہے۔اور یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو کبھی اکٹھی نہیں ہوتیں نہ شفق کے بعد لازمًا انتہائی تاریک رات آتی ہے۔اور نہ انتہائی تاریک کے بعد بدر نکلا کرتا ہے۔آخر کوئی مفسر مجھے بتائے کہ وہ کون سا بدر ہے۔جو وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ کے بعد نکلتا ہے۔مگر یہاں وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ کا پہلے ذکر کیا گیا ہے۔اور بدر کا بعد میں ذکر کیا گیا ہے پس یہاں تدریجی ترقی کا کوئی ذکر نہیں اور نہ جسمانیات کا کوئی قانون بیان ہو رہا ہے۔بلکہ رُوحانی نقطۂ نگاہ سے اسلام کے تنزل اور اس کی ترقی کے مختلف ادوار کا ذکر کیا جا رہا ہے۔پس لیل سے یہاں کوئی دنیوی رات مراد نہیں۔بلکہ روحانی رات مراد ہے۔اور دنیوی اور روحانی راتوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ دنیوی راتوں میں بدر سے پہلی راتیں تاریک نہیں ہوتیں۔بلکہ روشن ہوتی ہیں۔مثلاً ۱۴ سے پہلے ۱۲ یا ۱۳ تاریخ کی راتیں تاریک نہیں ہوں گی۔انتہائی تاریک راتیں ۲۸-۲۹ ہوں گی۔لیکن روحانی دنیا میں بدرِ کامل اس وقت ظاہر ہوتا ہے۔جب اس سے پہلے ایک سخت تاریک رات دنیا پر چھائی ہوئی ہوتی ہے پس وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ کے بعد وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ رکھ کر بتا دیا گیا ہے کہ یہاں جسمانی نہیں بلکہ روحانی شفق روحانی رات اور روحانی بدر کا ذکر کیا جا رہا ہے۔اِس لئے تدریج کا یہاں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فرماتا ہے وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ ہم شہادت کے طور پر چاند کو پیش کرتے ہیں۔جب وہ بدر بن جاتا ہے۔یہ مسیح موعود کی بعثت کے متعلق اتنی واضح پیشگوئی ہے کہ اس کے بعد کسی کا یہ کہنا کہ قرآن میں مسیح موعود کا ذکر نہیں خطرناک ظلم ہے۔یہاں تین حالتیں بیان کی گئی ہیں۔اور بتایا گیا ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد شفق کا زمانہ بہت لمبا ہو گا۔اس کے بعد ایک چھوٹا سا تاریک زمانہ آئے گا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ چھوٹا ہو گا اس قدر تاریک ہو گا کہ کس قدر تاریکی دنیا میں ممکن ہے۔سب اس میں جمع ہو جائے گی۔اس کے بعد یکدم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روشنی لینے والے وجودوں میں سے ایک بدر بن جائے گا۔اور رات پر اس طرح چھا جائے گا۔کہ اسے شروع سے لے کر آخر تک منور کر دے گا۔بدر کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ رات کو شروع سے آخر تک روشن کر دیتا ہے۔وہ روحانی بدرِ کامل بھی اپنے نور کو دنیا میں اس طرح پھیلا دے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا بُعد لوگوں کو محسوس نہیں ہو گا۔یہ نہایت ہی واضح اور مکمل نقشہ ان تغیرات کا کھینچا گیا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آخر تک رونما ہونے تھے۔اور جنہوں نے اسلام پر اثر انداز ہونا تھا۔(اقرب)