تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 488

میں مخفی ہو گا وہ سب پھینک دے گی۔نیکیوں میں ترقی کرے گی۔گناہوں سے بیزار ہو جائے گی۔اور آسمانی مدد اور نصرت کی وجہ سے اس کی ایسی اصلاح ہو جائے گی کہ زمین میں جس قدر نقائص پائے جاتے ہیں سب پھینک کر وہ خالی ہو جائے گی۔وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ۰۰۶ اور اپنے رب (کی بات سننے) کے لئے کان دھرے گی۔اور یہی (اس پر)فرض ہے۔تفسیر۔یہ کفر والی زمین کا ذکر نہیں بلکہ ایمان والی زمین کا ذکر ہے کہ وہ اپنے رب کے لئے کان رکھے گی خالی استماع اور چیز ہے اور اس میں اتنی توجہ نہیں پائی جاتی جتنی توجہ اس شخص کے اندر ہوتی ہے جو کان لگا کر بیٹھا ہوا ہو کہ کوئی بات رہ نہ جائے۔پس فرماتا ہے وہ زمین اپنے رب کی باتیں سننے کے لئے کان لگائے بیٹھی رہے گی وَحُقَّتْ اور یہ زمین ہے ہی اس قابل یعنی ہم زمین میں بھی ایسی قابلیت پیدا کر دیں گے کہ خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا مادہ اس میں پیدا ہوجائے گا۔يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِۚ۰۰۷ اے انسان تو اپنے رب کی طرف پورا زور لگا کر جانے والا ہے۔(اور) پھر اس سے ملنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔کَادِحٌ کَادِحٌ کَدَحَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور کَدَحَ کے معنی ہوتے ہیں پوری محنت کرنا۔ایسی محنت کرنا جس کا جسم پر اثر پڑ جائے۔کہتے ہیں کَدَحَ (یَکْدَحُ کَدْحًا) اَیْ سَعٰی وَعَمِلَ لِنَفْسِہٖ خَیْرًا اَوْ شَرًّا وَکَدَّ۔اس نے کام کرنے کی کوشش کی۔چاہے وہ کوشش اچھی تھی یا بُری۔اور خوب محنت سے کام لیا وَقِیْلَ اَلْکَدْحُ جُھْدُ النَّفْسِ فِی الْعَمَلِ وَالْکَدُّ فِیْہِ حَتّٰی یُؤَثِّرَ فِیْھَا۔بعض لغوی کہتے ہیں کہ کدح اس کام کو کہتے ہیں۔جو اتنی محنت سے کیا جائے کہ انسان کی صحت برباد ہو جائے۔اس کی ہڈیاں گھل جائیں اور اس کے جسم کے اندر تک اثر پہونچ جائے۔(اقرب) پس کَادِحٌ کے معنی ہوں گے۔پوری محنت ومشقت کرنے والا۔تفسیر۔فرماتا ہے اے انسان تو پوری جدوجہد کرے گا۔پوری محنت کرے گا اپنے رب کی طرف جانے کی فَمُلٰقِيْهِ اور آخر تو اس سے جا کر مل ہی جائے گا۔