تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 489
خدا کو پانے کے لئے انتہائی محنت کی ضرورت یہاں يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ میں یا تو عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے۔اور یا اس سے مراد صرف وقت کا امام ہے یعنی یا تو اس سے یہ مراد ہے۔کہ اے انسان تیرے لئے اپنے رب سے ملنے کا رستہ کھلا ہے۔شرط یہ ہے کہ تیری طرف سے کدح ہونا چاہیے۔اِ ن معنوں کے لحاظ سے ہر انسا ن اِس میںشامل ہے۔اور یا پھر ہر انسان براہ راست اس میں شامل نہیں۔بلکہ کامل انسان کے تابع ہو کر شامل ہے۔اور معنی یہ ہیں کہ اے کامل انسان تُو اپنے رب کو پانے کے لئے بڑی قربانیاں کرے گا۔اور آخر ایک دن اس کو پا ہی لے گا۔اور جب کوئی کامل انسان اس کو پا لیتا ہے۔تو پھر سب کو حکم ہو جاتا ہے کہ تم بھی اِسی راستہ پر چلو۔اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو۔اِ س آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رستے کا ملنا معمولی بات نہیں ہوتی۔اِس غرض کے لئے انسان کو اتنی محنت کرنی پڑتی ہے کہ اس کی ہڈیوں تک اثر پہونچ جاتا ہے۔یہی وُہ نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ لقاء الٰہی سے محروم رہ جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب انہیں ایمان نصیب ہو گیا۔تو کچھ دیر بیٹھ کر ایمان کی باتوں کا مزہ لے لینے اور نمازروزہ وغیرہ ادا کر لینے سے ہی ان کی روحانیت کامل ہو جائے گی۔حالانکہ روحانیت کامل ہوتی ہے اس غم کی وجہ سے جو عشق سے پیدا ہوتا ہے جس کے اثر سے انسان کی ہڈیاں تک گھل جاتی ہیں۔جب تک انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے متعلق یہ رغبت پیدا نہ ہو۔یہ غم پیدا نہ ہو۔یہ عشق اور محبت پیدا نہ ہو۔اس وقت تک مُلَاقِیْہِ کا مقام اسے میسر نہیں آ سکتا۔باقی نماز پڑھ لینا یا روزے رکھ کر یہ سمجھ لینا کہ میں نے بڑی مشقت برداشت کر لی ہے۔ایسی باتیں نہیں ہیں۔جو کدح میں شامل ہوں۔اِس سے بہت زیادہ مشقت طلب کام لوگ کرتے ہیں۔چوڑھوں کو دیکھ لو وہ کتنی محنت کرتے ہیں۔دھوبیوں کو دیکھ لو وہ کس قدر مشقت کا کام کرتے ہیں۔سقوں کو دیکھ لو۔وہ کس قدر تکلیف برداشت کرتے ہیں مگر یہ نہیں ہوتا کہ اس کام سے ان کی ہڈیاں گھلنی شروع ہو جائیں۔کام کا جتنا اثر ہوتا ہے صرف جسم پر ہوتا ہے جو کچھ دیر کے بعد زائل ہو جاتا ہے۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کَادِحٌ کا لفظ استعمال فرماتا ہے اور کدح اس بات کو کہتے ہیں کہ انسان ایسا عمل کرے کہ یوں معلوم ہو اس کی صحت بگڑ جائے گی۔اس کی ہڈیاں گھل جائیںگی۔اور اس کا جسم تباہ ہو جائے گا۔جب انسان اس رنگ میں کام کرتا ہے۔تب اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے اس کے بغیر اس کا اپنی کامیابی کے متعلق امید رکھنا غلطی ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت میں خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ کو اِسی غرض کے لئے قائم کیا ہے کہ وہ محنت کریں اور مشقت طلب کاموں کی اپنے اندر عادت پیدا کریں جب تک انسان اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے نہیں بچاتا اسے خدا نہیں مل سکتا۔خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ کے