تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 487
معجز ہ ہے۔ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں۔اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جائو۔تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی مَیں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں۔اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا۔مگر دل میں خوش ہوں۔(الذکر الحکیم نمبر ۴ صفحہ ۱۶،۱۷۔۲۴؍ مئی ۱۸۹۶) اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْ کے پانچ معانی غرض اَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس زمانہ کے مامور کو ایسی جماعت عطا فرمائے گا۔جو خدا اور اس کے رسول کے لئے ان تمام چیزوں کو پھینک دے گی جو اس کے پاس ہوں گی اور خالی ہو جائے گی۔اَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی اندرونی قابلیتوں سے پورا پورا کام لیں گے اسی طرح اَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ سے یہ بھی مراد ہے کہ نفوس پاکیز ہ اس دن کلامِ الٰہی کو سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔اور آسمانی بارش اس پر نازل ہو گی۔اور دلوں کو اس طرح تیار کر دیا جائے گا جس طرح زمین کو کھاد ڈال کر ہل چلا کر اور سہاگہ دے کر درست کیا جاتا ہے۔کیونکہ مُدَّتْ میں یہ سب امور شامل ہیں۔اِسی طرح ان الفاظ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ تھا کہ تمام روحانی اور جسمانی علوم کو زمین باہر نکال دے گی۔اور کوئی چیز مخفی نہیں رہے گی۔گویا اس زمانہ میں روحانی اور جسمانی علوم کا ایسا اجتماع ہو گا جس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملے گی۔پس اَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ کے معنی یہ ہوئے کہ زمین اس زمانہ میں اپنے سارے خزانے اگل دے گی۔یعنی وُہ وقت علوم کی ترقی کا ہو گا۔اور علومِ آسمانی اور علومِ زمینی دونوں کا اس زمانہ میں مکمل ظہور ہو گا۔ظاہری لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے۔کہ زمین میں ایسے تغیرات ہوں گے۔کہ جو کچھ اس میں ہو گا۔وُہ اسے باہر پھینکنا شروع کر دے گی۔چنانچہ پٹرول۔مٹی کا تیل ہزاروں قسم کی دوائیں ویزیلین۔گلیسرین۔ریڈیم اور کئی قسم کی دھاتیں اور دوسری قابل استعمال اشیاء زمین میں سے ہی نکلی ہیں۔گویا اِس آیت میں بتایا گیا ہے۔کہ وہ زمانہ ایسا ہو گا۔کہ اِدھر آسمان سب کچھ پھینک دے گا۔اور ادھر زمین جو کچھ اس میں ہو گا نکال کر باہر پھینک دے گی۔یہی مضمون دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا (الزلز ال:۲،۳ ) یعنی ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب زمین کو خوب جھنجوڑا جائے گا اور وُہ اپنے تمام بوجھوں کو نکال کر خالی ہو جائے گی۔اَلْقَتْ مَافِیْھَا وَتَخَلَّتْ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ زمین اپنے گناہوںکا کفارہ ادا کرے گی یعنی جو کچھ گند اس