تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 485

معنی ہیں۔کہ زمین کی عمر لمبی کر دی جائے گی۔اور اسے مہلت دی جائے گی۔کہ وہ خدا تعالیٰ کی برکات سے فائدہ اٹھا سکے۔اسی طرح مَدَّ الْقَوْمَ کے ایک معنی ہیں صَارَ لَھُمْ مَدَدًا وَاَغَاثُھُمْ بِنَفْسِہٖ ان معنوں کے لحاظ سے وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ کا یہ مطلب ہو گاکہ جب زمین کی فریاد کو خدا پہنچے گا۔یعنی لوگوں کے گناہوں اور شرک کی وجہ سے زمین اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرے گی۔کہ الٰہی میں گندی ہو گئی ہوں خراب ہو گئی ہوں۔اور لوگوں نے اپنے گناہوں کی وجہ سے مجھے بگاڑ دیا ہے۔پس جب آسمان پھٹے گا تو فرشتے اُتریں گے۔اور زمین کی مدد کریں گے۔گویا زمین کی پکار اور اس کی فریاد سنی جائے گی۔لسان العرب میں جو معنی مَدَّ کے کئے گئے ہیں۔اور جو حل لغات میں لکھے جا چکے ہیں۔کہ مَدَّ کے معنی کھاد ڈالنے کے بھی ہوتے ہیں۔ان کے اعتبار سے وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ کے یہ معنی ہوں گے کہ زمین میں کھاد ڈالی جائے گی۔اور خدا تعالیٰ روحانی ترقیات کے ابھرنے کے نئے سامان کرے گا۔اسی طرح حل لغات میں لکھا گیا ہے کہ مَدَّالسَّرَاجَ بِالسَّلِیْطِ کے معنی ہوتے ہیں کہ صَبَّ فِیْہِ زَیْتًا۔اس نے دیئے میں تیل ڈالا۔تیل ڈالنے کے معنی حیات کے بھی لئے جا سکتے ہیں۔اور دوبارہ قابلیتوں کے پیدا کرنے کے بھی لئے جا سکتے ہیں۔اِس لحاظ سے وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ کا یہ مطلب ہو گا کہ زمین میں نئی قابلیتیں پیدا کر دی جائیں گی۔غرض اِ س آیت کے معنی یہ ہیں کہ زمین کو نئی عمر دی جائے گی۔اس کی ہلاکت کو اللہ تعالیٰ کے پیچھے ڈال دے گا۔اور اس میں نئی کھاد ڈالے گا۔تاکہ وُہ ترقی کرے۔وَ اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْۙ۰۰۵ اور جو کچھ اس میں ہے اس کو نکال پھینکے گی۔اور خالی ہو جائے گی۔حَلّ لُغَات۔تَخَلَّتْ تَخَلَّتْ تَخَلّٰی سے مؤنث کا صیغہ ہے اور تَخَلّٰی مِنْہٗ وَعَنْہٗ کے معنی ہوتے ہیں تَرَکَہٗ اس کو چھوڑ دیا۔اور تَخَلّٰی لَہٗ کے معنی ہوتے ہیں تَفَرَّغَ لَہٗ کسی کے لئے فارغ ہو گیا(اقرب)۔پس تَـخَلَّتْ کے معنی ہوں گے وہ چھوڑ دے گی یا الگ کر دے گی۔تفسیر۔وَ اَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَ تَخَلَّتْسے مراد مامور کی جماعت اِس آیت کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس مامور کو جس کے لئے آسمان پھٹے گا۔اور فرشتے آسمان سے اُتریں گے۔ایسی جماعت عطا