تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 486

فرمائے گا جو قربانی کرنے والی ہو گی اور قربانی بھی معمولی نہیں بلکہ اَلْقَتْ مَافِیْھَا وَ تَخَلَّتْ اپنے مال اور اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنے وطن اور اپنے آرام اور اپنے جذبات غرض ہر چیز کی وہ انتہائی طور پر قربانی کرنے والی ہو گی۔اور خدا تعالیٰ کی راہ میں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو جماعت عطا فرمائی وہ ایسی ہی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں۔جیسا کہ صحابہؓ نے پایا۔وُہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہؓ نے اٹھایا۔وُہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوںاور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں۔جیسا کہ صحابہؓ نے حاصل کی۔بہتیرے ان میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدگاہوں کو آنسوئوں سے تر کرتے ہیں۔جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں۔جن کو سچی خوابیں آتی ہیں۔اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں۔جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں۔کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں۔جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ان میں ایسے لوگ کئی پائو گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں۔جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے۔اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے۔اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے۔اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔جیسا کہ صحابہؓ کو کھینچتا تھا غرض اِ س جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں۔اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پُورا ہوتا۔‘‘ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۰۶۔۳۰۷) اِسی طرح فرماتے ہیں۔’’مَیں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے۔یہ بھی ایک