تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 484
ہوتے ہیں اَمْھَلَہٗ مقروض کو اس نے مہلت دے دی۔اور مَدَّالْقَوْمُ کے معنی ہوتے ہیں صَارَلَھُمْ مَدَ دًا وَاَغَاثَھُمْ بِنَفْسِہٖ اس نے لوگوں کی مدد کی۔اور ان کی فریاد کو سنا وَفِی الِّلسَانِ مَدَدْتَ الْاَرْضَ مَدًّا اِذَازِدْتَ فِیْھَا تُرَابًا اَوْسَمَادًا مِنْ غَیْرِھَا لِیَکُوْنَ اَعْمَرَلَھَا وَاَکْثَرَ رَیْعاً لِزَرْعِھَا۔لسان میں لکھا ہے کہ مَدَدْتَ الْاَرْضَ اُس وقت کہتے ہیں جب زمین کے اندر اچھی مٹی جو تازہ ہو۔یا مٹی میں ملی ہوئی کھاد ڈالی جائے۔تاکہ کھیتی خوب ہو۔اور مَدَّ السَّرَاجَ بِالسَّلِیْطِ کے معنی ہوتے ہیں صَبَّ فِیْہِ زَیْتاً اس نے دیئے میں تیل ڈالا (اقرب) پس مُدَّتْ کے معنے ہوں گے پھیلائی جائے گی۔(۲)اس کی کمی پُوری کی جائے گی۔اس کو مہلت دی جائے گی۔(۳)اس کی فریاد سنی جائے گی۔تفسیر۔وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْکے چار معنے اوپر بتایا جا چکا ہے کہ مَدَّ اللّٰہُ الْاَرْضَ کے معنی ہوتے ہیں بَسَطَھَا۔زمین کو خدا نے پھیلا دیا۔اِس لحاظ سے وَاِذَاالْاَرْضُ مُدَّتْ کے معنی ہوں گے جب زمین پھیلائی جائے گی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے۔وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا (الحجر:۲۰ )کہ زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے پس جبکہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی پھیلا رکھا ہے۔تو اس کے بعد یہ فرمانا کہ وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ پھر ایک زمانہ میں زمین پھیلائی جائے گی۔اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے۔کہ پہلی زمین کفر اور گناہ کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہو گی۔تب اللہ تعالیٰ ایک نئی زمین لوگوں کے لئے پیدا فرمائے گا۔پس وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ کے الفاظ ایک نئی زمین کی پیدائش کے معنوں میں استعمال کئے گئے ہیں۔اور بتایا گیا ہے کہ زمین اپنی پہلی قابلیتیں کفر اور گناہوںکی کثرت کی وجہ سے کھو چکی ہو گی۔اس لئے آسمان کو پھاڑنے کے بعد خدا تعالیٰ زمین کو بھی اِس قابل بنائے گا۔کہ اس کے انوار کو جذب کر سکے۔مَدَّ کے دوسرے معنی اَطَالَ اللّٰہُ عُـمُرَہٗ کے ہوتے ہیں۔کہ اللہ نے اس کی عمر کو لمبا کر دیا۔اِسی طرح کہتے ہیں مَدَّ الْمَدْیُوْنَ: اَمْھَلَہٗ۔اس نے اپنے مقروض کو مہلت دے دی اِ س لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب کفر اور شرک کی کثرت کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔اس وقت زمین بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے تباہ کر دیا جائے۔لیکن اس نئے آسمانی شگاف کی وجہ سے جس سے اللہ تعالیٰ کے انوار اوراس کی برکات نازل ہوں گی زمین اس بات کی مستحق ہو گی کہ اسے مہلت دی جائے۔اور اُس کی عمر کو لمبا کر دیا جائے۔اگر نبی کے آنے کے ساتھ ہی قیامت آجائے۔تو اُس کی بعثت کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ضروری ہوتا ہے کہ زمین والوں کو مہلت دی جائے۔اور انہیں موقعہ دیا جائے۔کہ وہ خدا تعالیٰ کی باتوں پر غور کریں۔پس وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ کے یہ