تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 482
کے لئے اور کلامِ الٰہی کے نزول کے لئے پھٹا ہے۔وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ۰۰۳ اور اپنے رب (کی بات سننے) کے لئے کان دھرے گا اور یہی (اس پر) فرض ہے۔حَلّ لُغَات۔اَذِنَتْ اَذِنَتْ اَذِنَ سے مؤنث کا صیغہ ہے۔اور اَذِنَ بِالشَّیْءِ اِذْنًا وَاَذَنًا وَاَذَانًا وَاَذَانَۃً کے معنی ہوتے ہیں عَلِمَ بِہٖ۔یعنی اس کا علم حاصل کیا۔اور اَذِنَ لَہٗ فِیْ الشَّیءِ اِذْنًا وَاَذِیْناً کے معنی ہوتے ہیں اَبَاحَہٗ لَہٗ اس کو اجازت دی۔اور اَذِنَ اِلَیْہِ اَذَناً کے معنی ہوتے ہیں اِسْتَمَعَ اس کی بات کو سنا (اقرب) مفردات میں لکھا ہے۔وَاَذِنَ اِسْتَمَعَ نَحْوَ قَوْلِہٖ وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ یعنی اَذِنَ کے معنی سننے کے بھی ہوتے ہیں۔بخاری میں حدیث آتی ہے۔کہ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَااَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْءٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّتَغَنَّی بِالْقُرْاٰنِ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب من لم یتغنّ بالقراٰن) یعنی اللہ تعالیٰ کسی بات کو اس طرح شوق سے نہیں سنتا جیسے اپنے نبی کی بات کو جب وہ قرآن پڑھ رہا ہو۔حُقَّتْ حُقَّتْ حَقَّ سے ہے۔اور حَقَّ عَلَیْکَ وَ یَحِقُّ عَلَیْکَ وَحُقَّ لَکَ اَنْ تَفْعَلَ کَذَا کے معنی ہوتے ہیں وَجَبَ عَلَیْکَ تجھ پر یہ بات واجب ہے (اقرب) پس اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ کے معنی یہ ہوئے کہ حُقَّ لَھَا اَنْ تَفْعَلَ کَذَا۔یعنی وہ اپنے رب کی بات پر کان دھرے گا۔اور وہ اسی لائق ہے کہ اپنے رب کی بات کو اچھی طرح سنے۔اس پر غور کرے اور اس کے حکم کی اطاعت کرے۔تفسیر۔اِس آیت میں بتایا گیا ہے۔کہ آخری زمانہ میں جہاں خدا تعالیٰ کے غضب نازل ہوں گے۔اور اس کی طرف سے کئی قسم کی آفات اتریں گی۔وہاں یہ بھی سامان کئے جائیں گے کہ آسمان سے کلامِ الٰہی نازل ہو۔انشقاقِ آسمان درحقیقت بارش پر دلالت کرتا ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ ایک قوم کے لئے آسمان پھٹے گا۔تاکہ اس پر غضب کا مینہ برسے اور ایک اور قوم پر بھی آسمان پھٹے گا۔مگر اس لئے کہ اس پر رحمت کی بارش نازل ہو۔اور اللہ تعالیٰ کے کلام اور آسمانی علوم کا ظہور ہو۔گویا قرآن مردہ ہو چکا ہو گا۔مگر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ پھر علومِ قرآنیہ کو آسمان سے نازل کرے گا۔اور اپنے کلام اور الہام کی بارش برسائے گا۔انشقاق سماء سے مراد پیدائش آدم اس آیت کے ایک اور معنی بھی ہو سکتے ہیں۔اور وہ یہ کہ قرآن کریم