تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 483

میںدوسری جگہ آتا ہے۔وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاھِیَۃٌ۔وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىِٕهَا (الحاقۃ :۱۷۔۱۸) یعنی آسمان پھٹے گا۔اور فرشتے اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے اس کے کناروں پر آ کر کھڑے ہو جائیں گے۔اِ س آیت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے زیر تفسیر آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ جس طرح آدمِ اوّل کی پیدائش پر فرشتوں سے کہا گیا تھا کہ اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ اِسی طرح آخری زمانہ میں آسمان پھٹے گا۔اور فرشتے اطاعت کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔یعنی ایک نیا روحانی آدم پیدا کیا جائے گا اَور فرشتے احکامِ الٰہی کی بجاآوری کے لئے کمربستہ و تیار ہو جائیں گے۔پس اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۔وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ کا ایک مطلب یہ ہوا کہ ایک نیا آدم پیدا ہو گا ایک نئی رُوح دنیا میں آئے گی۔آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور فرشتے بار بار آئیں گے تاکہ اس کی مدد اور نصرت کریں۔اَذِنَتْ لِرَبِّهَا کےساتھ لفظ حُقَّتْ لانے کی وجہ اِس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حُقَّتْ بھی فرمایا ہے کہ آسمان اپنے رب کی بات پر کان دھر ے گا اور وُہ اِسی بات کا اہل تھا۔یہ حُقَّتْ کا لفظ انقیاد کی شدّت بتانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔یوں خالی انقیاد کا اظہار بھی کافی تھا۔مگر حقّت کے معنی یہ ہیں کہ وہ اسی لائق تھا اور اِسی غرض کے لئے اس کو بنایا گیا تھا اور جو چیز کسی خاص غرض کے لئے بنائی جاتی ہے اس کا فعل دوسروں سے زیادہ اعلیٰ ہوتا ہے۔ایک کام چھری کا ہوتا ہے۔ہمارے پاس چاقو ہو۔تو وہ بھی چھری کا کام دے دے گا۔مگر وہ کام ایسا ا چھا نہیں ہو گا جیسے چھری سے کام ہو سکتا تھا۔یا ایک کام تلوار کا ہے۔ہمارے پاس تلوار نہ ہو۔تو گو چھری بھی کچھ کام دے جائے گی۔مگر ایسا اچھا کام نہیں دے گی۔جیسے تلوار دے سکتی تھی۔تو جو چیز جس غرض کے لئے بنائی گئی ہو۔اُس کا فعل دُوسری چیزوں سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔پس حُقَّتْ کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اطاعت اور فرمانبرداری میں کمال دکھائیں گے۔کیونکہ ان کو خدا نے پیدا ہی اِس لئے کیا ہے۔اور ان کے اندر اس نے یہ قابلیت رکھی ہے۔کہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام کو پورا کریں۔وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ۰۰۴ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔حَلّ لُغَات۔مُدَّتْ مُدَّتْ مَدَّ سے ہے۔اور مَدَّاللّٰہُ الْاَرْضَ کے معنی ہوتے ہیں بَسَطَھَا زمین کو خدا نے پھیلایا۔مَدَّاللّٰہُ عُمُرَہٗ کے معنی ہوتے ہیں اَطَالَہٗ اللہ نے اس کی عمر کو لمبا کر دیا۔اور مَدَّ الْمَدْیُوْنَ کے معنے