تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 481
معنی ہوتے ہیں اِنْعَقَّ بجلی بادلوں میں کوندتی ہوئی نکل گئی (اقرب) پس اِنْشَقَّتْ کے معنے ہوں گے کوئی چیز پھٹ گئی۔اور اس کے پھٹنے سے دوسری چیز جو اس کے پیچھے تھی نظر آنے لگی۔تفسیر۔جیسا کہ حل لغات سے ظاہر ہے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ کے معنی یہ ہیں کہ آسمان پھٹ گیا۔یا یہ کہ آسمان ظاہر ہو گیا۔کیونکہ انشقاق کسی چیز کے باہر نکل آنے اور بجلی کے کوندنے اور فجر کے طلوع کرنے کو بھی کہتے ہیں۔درحقیقت انشقاق کے اصل میں دو ہی نتیجے ہوتے ہیں۔یا تو کوئی چیز پھٹ کر ناکارہ ہو جاتی ہے یا پیچھے جو چیز رُکی ہوئی ہو وُہ باہر آجاتی ہے۔بعض دفعہ کسی چیز کے باہر نکلنے میں کوئی روک حائل ہوتی ہے۔جب سوراخ ہو جائے۔تو وہ چیز باہر آجاتی ہے۔اِس لحاظ سے آسمان پھٹنے سے عذاب اور رحمت دونوں کا نزول مراد لیا جا سکتا ہے۔کیونکہ خدا کے پاس عذاب بھی ہے اور اس کے پاس رحمت بھی ہے۔اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْمیں آسمان کا پھٹنا بطور رحمت کے ہے اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ میں آسمان کا ایسا پھٹنا مراد تھا۔جس کے پیچھے عذاب تھا۔مگر اِس سورۃ میں ایسا پھٹنا مراد ہے جس کے پیچھے خدا تعالیٰ کا کلام یا الہام ہے یہ ایسی ہی بات ہے۔جیسے قرآن کریم میں دوسری جگہ آتا ہے۔اَوَ لَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا(الانبیاء:۳۱) یعنی کفار اِس امر پر کیوں غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین دونوں بالکل گیند سے بنے ہوئے تھے۔پھر ہم نے آسمان کو بھی پھاڑ دیا۔اور زمین کو بھی۔یہاں آسمان پھٹنے سے نزولِ عذاب مراد نہیں۔کیونکہ آگے فرماتا ہے۔وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ١ؕ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ اور ہم نے پانی سے ہر شے کو زندہ کیا ہے کیا وہ ایمان نہیں لاتے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ذکر فرما رہا ہے۔کہ آسمان اور زمین دونوں بالکل بند تھے۔اور اُن میں کوئی سوراخ نہ تھا۔نہ زمین اپنی روئیدگی نکالتی تھی۔نہ آسمان پانی برساتا تھا۔پھر ہم نے دونوں کو پھاڑ دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمان سے پانی اترنا شروع ہو گیا۔اور زمین میں سے روئیدگی نکلنی شروع ہو گئی۔یہی مضمون یہاں دوسرے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے فرماتا ہے اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ عذابِ الٰہی کے نزول کی وجہ سے اور کفر ،شرک اور بدعت کے پھیلنے کی وجہ سے جن کا پہلی سورتوں میں ذکر کیا گیا ہے۔آسمان نے اپنی برکتیں روک لی تھیں۔اور وہ بالکل سمٹ گیا تھا۔اس میں کوئی سوراخ نہ تھا۔جس میں سے زمین والوں پر رحمتیں نازل ہوتیں صرف وہی سوراخ کھلا تھا جس میں سےغضب اور عذاب نازل ہوتے ہیں۔پھر خدا نے اپنے بندوں پر رحم کیا۔اور اسے اس طرح پھاڑا۔کہ اس میں سے رحم نازل ہونا شروع ہو گیا۔چنانچہ آگے اس کی دلیل دے دی کہ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ یہ آسمان کا پھٹنا فرمانبرداری اور اطاعت کے لئے ہے جس طرح پہلا پھٹنا نافرمانی اور گناہ کی وجہ سے تھا یعنی اب وہ رحمت