تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 470

وَ فِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ۰۰۲۷ اور چاہیے کہ خواہش رکھنے والے (انسان) ایسی (ہی) چیز کی خواہش کریں۔حَلّ لُغَات۔تَنَافَسُوْا تَنَافَسُوْا فِیْ الشَّیْئِ کے معنے ہوتے ہیں نَافَسُوْاا ور نَافَسَ فِی الشَّیْئِ مُنَافَسَۃً وَنِفَاسًا کے معنے ہوتے ہیں رَغَبَ فِیْہِ عَلٰی وَجْہِ الْمُبَارَاۃِ فِی الْکَرَمِ۔کہ مقابلہ کے جذبہ کے ساتھ نیک اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے کے مقابل میں مشغول ہو گئے اور دوسرے معنے اس کے ہوتے ہیں بَالَغَ فِیْہِ وَغَالَ وَزَایَدَ۔کسی کام کو حد سے زیادہ کرنا۔اس میں غلُوّ سے کام لینا اور اس کام میں بڑھتے چلے جانا (اقرب) پس فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ کے معنے یہ ہوئے کہ یہ وہ چیز ہے (یعنی رحیقِ مختوم کا ملنا) جس کے متعلق لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس کو لینے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔تفسیر۔اس بات کی دلیل کہ رحیق مختوم سے مراد کوئی مادی چیز نہیں اس آیت سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رحیقِ مختوم کوئی مادی چیز نہیں بلکہ روحانی چیز ہے۔کیونکہ اگر یہ مادی چیز ہوتی تو جو شخص ایک گلاس ہی پی سکتا ہے اُسے یہ کس طرح کہا جا سکتا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔تنافس وہاں ہی ہوتا ہے جہاں ایک شخص دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔پس یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ روحانی چیز ہے جس میں دوسروں سے مقابلہ ہو سکتا تھا کوئی مادی چیز نہیں کہ جو محدود طور پر ہی استعمال کی جا سکتی ہے اور جس میں دوسرے سے مقابلہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چونکہ یہ روحانی نعمت تھی اور اس میں دوسروں سے مقابلہ کیا جا سکتا تھا اس لئے فرمایا کہ تم اگر اس معاملہ میں کسی دوسرے پر رشک کرو تو یہ بالکل جائز ہے۔تم اگر کوشش کرتے ہو کہ دینی خدمات میں کوئی دوسرا تم سے بڑھ نہ سکے تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ ایسا کرو۔تَنَافُس کے معنے روز بروز بڑھتے چلے جانے کے ہیں۔پس جہاں اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم دوسروں کا مقابلہ کرو اور کوشش کرو کہ اپنے ساتھیوں سے بڑھ جائو وہاں اس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ تم کوشش کرو کہ تمہارآج کا دن کل کے دن سے بڑھ جائے گویا مُبَارَاۃ کے تو یہ معنے ہیں کہ تم دوسروں کا مقابلہ کرو اور تزاید کے یہ معنے ہیں کہ تمہارا آج کا قدم تمہارے کل کے قدم سے آگے ہو یہ دو چیزیں اپنے سامنے رکھ لو پھر دیکھو کہ کس طرح تم جلد سے جلد ترقی حاصل کر لیتے ہو۔