تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 471
وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍۙ۰۰۲۸عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ۠ؕ۰۰۲۹ اور اس میں تسنیم کی آمیزش ہو گی۔(ہماری مراد اس) چشمہ (سے ہے) جس سے مقرب لوگ پئیں گے۔حَلّ لُغَات۔مِزَاجُہٗ۔مِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ مَزَجَ الشَّیْءَ مَزْجًا وَمِزَاجًا کے معنے ہوتے ہیں خَلَطَہٗ بِہٖ۔کسی چیز سے اُس کو ملا دیا۔(اقرب) تَسْنِیْم سَنَّمَ الْکَلَأُ الْبَعِیْرَ کے معنے ہوتے ہیں عَظَّمَ سَنَامَہٗ۔گھانس نے اونٹ کے کوہان کو بڑا کر دیا۔سَنَّمَ فُلَانُ الْاِنَاء کے معنے ہوتے ہیں مَلَأَہٗ اُس نے اس کا برتن بھر دیا۔سَنَّمَ الْمِکْیَالَ کے معنے ہوتے ہیں مَلَأَہٗ ثُمَّ عَمِلَ فَوْقَہٗ مِثْلَ السَّنَامِ مِنَ الطَّعَامِ۔اُس نے برتن کو بھرا اور پھر بھر کر چوٹی دار بنا دیا۔سَنَّمَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں عَلَاہُ اُس کو اونچا کیا اور سَنَّمَ الْقَبْرَ کے معنے ہوتے ہیں ضِدُّ سَطَّحَہٗ اُس نے قبر کو اونچا کیا (اقرب) پس تسنیم کے معنے ہوئے اونچا کرنا یا بھر دینا یاایسی چیز جو کہ اونچا کر دینے والی ہے یا بھر دینے والی ہے۔تفسیر۔تسنیم سے مراد الہام الٰہی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شراب کے پیالوں کو الہامی پانی سے مدد دیتا رہے گا تاکہ ہر مزاج کا آدمی ہر زمانہ میں اس سے فائدہ اٹھاتا رہے۔یعنی قرآن گو رحیق ہے مگر رحیق بھی اس پانی سے بنتی ہے جو اُس کے مناسب حال ہو۔تھوڑے پانی کی ضرورت ہو تو اس میں تھوڑا پانی ملایا جاتا ہے۔اور زیادہ پانی کی ضرورت ہو تو اُس میں زیادہ پانی ملایا جاتا ہے۔گویا زمانہؔ اور ذوقؔ کے لحاظ سے اُس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے اور گو چیز وہی رہے مگر اس کی شکل کو بدلنا ضروری ہوتا ہے تاکہ لوگ اس سے پوری طرح فائدہ اٹھاتے رہیں۔پس مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ وہ ہر زمانہ کے لحاظ سے ایسے الہامات نازل کرتا رہے گا جو اس رحیق میں مناسب حال تمزیج کا باعث ہوں گے۔پس تسنیمؔ سے مراد الہام کا پانی ہے جو قرآن میں ہر زمانہ میں ملایا جاتا رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بغیر تازہ کلامِ الٰہی کے قرآن کریم اونچا نہیں ہوتا اُس کی عظمت اور اُس کی شان اور اُس کی فوقیت اس وقت صحیح طور پر ظاہر ہوتی ہے جب تسنیمؔ کا پانی اُس میں ملایا جائے۔پس فرمایا قرآن بے شک رحِیْق مختوم ہے مگر ہر زمانہ میں ایسی ضرورتیں پیش آتی رہیں گی جن کے لئے تازہ کلامِ الٰہی کی ضرورت ہو گی۔اس وقت ہم اپنا کلام نازل کریں گے جو قرآن کے لئے تسنیم کا موجب ہو گا۔یعنی اُس کو اونچا کرنے اور اس کی شان اور عظمت کو ظاہر کرنے کا باعث ہو گا۔آگے فرماتا ہے تمہیں کچھ پتہ ہے یہ تسنیم