تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 446

اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے فَاِنْ تَابَ اگر وہ توبہ کر لے وَنَزَعَ اور اپنے نفس کو پیچھے کھینچ لے وَاسْتَغْفَرَا ور استغفار کرے تو صُقِلَ قَلْبُہٗ اُس کا دل صاف ہو جاتا ہے وَاِنْ عَادَ ا ور اگر وہ پھر گناہ کرے تو زَادَتْ حَتّٰی تَغْلُفَ قَلْبُہٗ یہ سیاہی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ ایک دن اُس کے دل کو بالکل ڈھانپ لیتی ہے اس کے بعد رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا فَذَالِکَ الرَّیْنُ الَّذِیْ ذَکَرَہٗ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔یعنی اسی حالت کی طرف قرآن کریم نے رین کے لفظ سے اشارہ فرمایا ہے۔بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ الخ میں ایک نفسیاتی نکتہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک زبردست نفسیاتی و اخلاقی نکتہ بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر عمل اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ہر عمل کا اثر وہی نہیں جو اُس عمل کے ساتھ متعلق ہے بلکہ اس کے علاوہ اُس کا اثر انسا ن کے اخلاق اور اُس کی عقل اور اُس کے علم کے آئندہ ظہور پر بھی پڑتا ہے۔جھوٹ بولنے کے چار اثر ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ سے تعلق رکھنے والا جو اثر ہے وہ یہ ہے۔کہ اوّلؔ وہ دوسروں میں بدنام ہو جاتا ہے اس کا اعتبار جاتا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے عاجل یاآجل عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔جس کے خلاف جھوٹ بولا جاتا ہے وہ اس کا د شمن ہو کر اُس کے نقصان کے درپے ہو جاتا ہے پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض راستباز دوست اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تم جھوٹے آدمی ہو ہم تمہارے ساتھ دوستی نہیں رکھ سکتے یہ تو اُس جھوٹ کے طبعی اور منفرد اثرات ہیں مگر ان کے علاوہ ہر گناہ کا ایک اور اثر بھی ہوتا ہے جو انسان کے دماغ اور اُس کے دل پر پڑتا ہے۔مثلًا میں نے جھوٹ کی مثال دی تھی۔جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اُ سکے دماغ اور دل پر اس کا پہلا اثر یہ پڑتا ہے کہ جھوٹ سے نفرت کم ہو جاتی ہے اور آئندہ جھوٹ بولنا اُس کے لئے آسان ہو جاتا ہے یہی حال اَور گناہوں کا ہے۔پہلی دفعہ چوری کرتے ہوئے یا پہلی دفعہ جھگڑا کرتے ہوئے یاپہلی دفعہ گالیاں دیتے ہوئے یا پہلی دفعہ فساد کرتے ہوئے یا پہلی دفعہ قتل کرتے ہوئے انسان ڈرتا ہے کہ اگر میں نے ایسا کیا تو کہیں پکڑا نہ جائوں یا لوگوں میں بدنام نہ ہو جائوں مگر جب ایک دفعہ وہ ایسا فعل کر لیتا ہے تو اُس کے دماغ پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ نہ صرف بدی کی نفرت اُس کے دل سے کم ہو جاتی ہے بلکہ دوسری دفعہ جھوٹ بولنا یا دوسری دفعہ چوری کرنا یا دوسری دفعہ گالیاں دینا اور فساد کرنا اُس کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اِن افعال کو کرنا شروع کر دیتا ہے۔دوسرا اثر انسان کے دماغ اور اُس کے دل پر یہ پڑتا ہے کہ بوجہ ایک بدی کے ارتکاب کے دوسری بدیوں سے بھی اُس کی نفرت کم ہو جاتی ہے جو شخص چوری کرتا ہے اُس کے لئے اور جرائم کا ارتکاب نسبتًا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ چوری کا فعل خدا تعالیٰ کی نافرنی کا احساس کم کر دیتا ہے۔یہی حال