تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 447

جھوٹ اور دوسرے گناہوں کا ہے ہر گناہ اپنی ذات میں بھی بُرا ہوتا ہے لیکن ہر گناہ کا ایک خارجی اثر یہ ہوتا ہے کہ اور گناہوں سے نفرت کم ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی میں انسان بڑھتا چلا جاتا ہے۔تیسرا اثر اس کا یہ پڑتا ہے کہ بوجہ خود ارتکابِ بدی کے انسان دوسروں پر بھی بدظنی کرنے لگ جاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ جب میں نے یہ فعل کیا ہے تو دوسرے بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔ایک شخص سچ بول رہا ہوتا ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میںسچ کون بولتا ہے یہ بھی جھوٹ ہی بول رہا ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ خود جھوٹ بولنے کا عادی ہوتا ہے۔اس طرح وہ صداقت کے معلوم کرنے سے محروم ہو جاتا ہے اور بجائے سچ سے فائدہ اٹھانے کے غلط محرّکات دوسروں کے افعال کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔سچائی اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے مگر وہ اس پر غور کرنے کی بجائے اس کو ردّ کر دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جس طرح میں جھوٹ بول رہا ہوں اسی طرح یہ بھی جھوٹ بول رہا ہے جس طرح میں فریب سے کام لیتا ہوں اسی طرح فلاں بھی فریب کرتا ہے۔چوتھا اثر اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہ گناہوں کے نتیجہ میں صادقوں کی معیّت سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ اُس کے نزدیک کوئی صادق ہوتا ہی نہیں۔سب لوگوں کو وہ اپنی طرح جھوٹا سمجھتا ہے اور صادق بھی اس کی معیّت سے پرہیز کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ وسیع مضمون جو ساری دنیا کی نیکی اور بدی کے لئے بطور جڑ کے ہے اور جو دنیا کے اخلاق کی تباہی کا انکشاف کر رہا ہے۔قرآن کریم نے اس چھوٹے سے فقرہ میں بیان کر دیا ہے کہ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔ہر کسب اپنے براہ راست نتیجہ کے علاوہ ایک اور نتیجہ بھی پیدا کر دیا کرتا ہے جو یہ ہے کہ وہ کسب انسان کی قوتِ عقلیہ اور قوتِ علمیہ اور قوتِ فکریّہ کو مار دیتا ہے اور اسی کا نام رینؔ ہے۔كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ۰۰۱۶ثُمَّ یوں نہیں (جس طرح وہ کہتے ہیں بلکہ) اس دن وہ یقیناً اپنے رب کے سامنے آنے سے روکے اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِيْمِؕ۰۰۱۷ثُمَّ يُقَالُ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ جائیں گے۔پھر وہ ضرور جہنّم میں داخل ہوں گے۔پھر (اُن سے) کہا جائے گا یہی تو وہ (انجام) ہے