تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 445
زیادہ سخت ہے۔لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں۔یہ تینوں لفظ یعنی رَینؔ طبعؔ اور اقفالؔ الگ الگ مضمون بیان کرنے کے لئے آئے ہیں۔رَین اصل میں زنگ کو کہتے ہیں اور زنگ اس بات کا نام ہوتا ہے کہ جس چیز پر زنگ لگا ہے وہ اپنی ذات میں گُھلنی شروع ہو گئی ہے۔زنگ اسی کو کہتے ہیں کہ کوئی باہر کی چیز اثر کر کے دوسری چیز میں تغیّر پیدا کر دیتی ہے۔لوہے کو زنگ لگتا ہے تو اس کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے کہ باہر سے نمی پہنچی اور اُس کا آکسائیڈ بننا شروع ہو گیا یا تانبہ COPPER کو زنگ لگتا ہے تو ا س کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے کہ اُس میںبَیرونی اثرات کی وجہ سے تغیّر پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔پس رَین ؔ کا لفظ اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے کہ کِسی چیز کے اندر تغیّر پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے اور وہ اپنی ماہیت کو چھوڑ بیٹھی ہے۔اس تغیّر کا اظہار کرنے کے لئے رینؔ کا لفظ بولا جاتا ہے لیکن طبعؔ کا لفظ اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُس نے دوسرے کے نقش کو قبول کر لیا کیونکہ طبعؔکے معنے مُہر کے ہوتے ہیں۔پس جب ہم طبعؔ کا لفظ بولتے ہیں تو ہمارا اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اُس نے دوسرے کے نقش کو قبول کر لیا۔اس کے مقابلہ میں جب ہم اقفالؔ کا لفظ بولتے ہیں تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب یہ چیز اپنے زور سے نہیںکُھل سکتی۔خدا ہی اس کو کھولے تو یہ کُھل سکتی ہے۔پس یہ تین قسم کی الگ الگ کیفیّتیں ہیں جن کے لئے رینؔ ،طبع اور اقفالؔ کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔یہاں رینؔ کا لفظ یہ بتانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اُن پر بیرونی گناہوں کا اس قدر اثر ہوا ہے کہ قلب جو نیکی کامنبع تھا اُس کی ماہیت ہی بدل گئی ہےاور وہ اب بدی پر دلیر ہو گیا ہے لیکن طبعؔ میں یہ بتا یا گیا ہے کہ اُن کے دلوں پر گناہوں کا ٹھپّہ لگ گیا ہے یعنی وہ چوٹی کے گنہگار ہو گئے ہیں کیونکہ ٹھپّہ والی چیز معیاری چیزہوتی ہے۔اور اقفال کے لفظ نے یہ بتایا کہ اُن کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ ہی اُن کے دلوں کے تالے کھولے تو وہ کُھلیں گے کوئی انسان اُن کو کھولنے کی طاقت نہیں رکھتا یعنی آپ اپنی اصلاح کرنی اُن کے اختیار سے باہر ہو گئی ہے۔رینؔ کے متعلق رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بھی ایک حدیث مروی ہے جو یہ ہے عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلَہٖ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اَذْنَبَ ذَنْبًا نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ فَاِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُہٗ وَاِنْ عَادَ زَادَتْ حَتّٰی تَغْلُفُ قَلْبُہٗ فَذَالِکَ الرَّیْنُ الَّذِیْ ذَکَرَہُ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ فِی الْقُرْاٰنِ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ۔احمد۔ترمذی۔نسائی۔ابن ماجہ اور ابن جریر وغیرہ سب نے بتغیّر الفاظ اس روایت کو بیان کیا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ڈال دیا جاتا ہے۔مطلب یہ کہ بدی کی رغبت