تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 443
مثال سورۂ صٓ کی یہ آیت ہے۔صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ۔بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ(ص : ۲،۳) یعنی قرآن کریم کا ذِیْ الذِّکْر ہونا توسچا ہے مگر ان کا انکارجھوٹا ہے۔اُن کے انکار کی یہ وجہ نہیں کہ قرآن کریم میں ذکر کی اہلیت نہیں بلکہ اُن کے انکار کی یہ وجہ ہے کہ یہ تکبّر اور صداقت سے تنفّر کی مرض میں مبتلا ہیں۔دوسری مثال اس کی سورۂ ق کی آیت قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ۔بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ (ق:۲،۳)کی ہے اِس میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مجید ہونے میں شبہ نہیں لیکن اُن کا انکار اُن کی جہالت کی وجہ سے ہے اور وہ جہالت یہ ہے کہ یہ اپنے میں سے ایک مُنذر کے آنے پر متعجب ہیں اور اصل کلام پر غور ہی نہیں کرتے۔دوم۔دوسری قسم بَلْ کی یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ پہلے مضمون کی تردید کرتا ہے نہ دوسرے کی بلکہ بغیر پہلے مضمون کی تردید کرنے کے وہ بَلْ کے بعد ایک زائد صداقت بتاتا ہے۔جیسے سورۂ انبیاء رکوع ۱ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےبَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ۔(الانبیاء:۶) اِس میں ہر بَلْ پہلے کی بھی تصحیح کرتا ہے اور بعد کی بھی مثلًا پہلے بَلْ کے بعد ہے قَالُوْآاَضْغَاثُ اَحْلَامٍ اِس سے پہلے قرآن کریم میں کفّار کا یہ اعتراض مذکور ہوا ہے کہ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ کہ کیا تم سحر پر ایمان لاتے ہو ایسی حالت میںکہ تم اپنی آنکھوں سے اُس کو دیکھ رہے ہو۔اِس کے بعد فرماتا ہے بَلْ قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ یہاں بَلْ کا لفظ لا کر اللہ تعالیٰ نے پہلے مضمون کی تردید نہیں کی۔یہ نہیں کہا کہ وہ سحر کا الزام نہیں لگاتے بلکہ ایک مزید بات یہ کہی ہے کہ وہ قرآن پر صرف سحر کا الزام ہی نہیں لگاتے بلکہ ایک زائد الزام یہ بھی لگاتے ہیں کہ وہ پراگندہ خوابیں ہیں۔اس کے بعد پھر بَلْ کو دُہرایا ہے اور اس کے ساتھ ایک اور الزام بھی بیان کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ پراگندہ خوابوں کا ہی الزام نہیں لگاتے بلکہ اِفْتَرٰہٗ بھی کہتے ہیں یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے افتراء کر کے یہ کلام بنا لیا ہے۔پھر بَلْ کا لفظ تیسری دفعہ دُہرایا ہے اور اس کے بعد ایک چوتھا الزام بیان کیا ہے کہ ھُوَ شَاعِرٌ وہ چوتھا الزام یہ لگاتے ہیں کہ یہ تو شاعر ہے دل لبھانے والی باتیں کر کے نوجوانوں کو ورغلا لیتا ہے۔گویا ہر دفعہ بَلْ لا کر پہلے مضمون کی تردید کئے بغیر اُس پر ایک زائد بات بتائی کہ وہ صرف ایک الزام نہیں لگاتے۔بلکہ یہ الزام بھی لگاتے ہیں اور وہ الزام بھی لگاتے ہیں اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ۔بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ (الانبیاء:۴۰،۴۱) اس میں بھی بَلْ سے پہلے مضمون کی تصدیق کرتے ہوئے آگے ایک مزید بات بتائی ہے کہ علاوہ اس کے کہ عذاب اِس قدر سخت ہو گا کہ وُہ اُسے دُور نہیں کر سکیں گے۔وہ ایسا اچانک آئے گا کہ دل دھڑک جائیں گے اور عقلیں ماری جائیں گی۔