تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 444
اِس سورۃ میں بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ میں لفظ بَلْ کا استعمال اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کے الزام کی تردید کرنے کے لئے آیا ہے کہ قرآن کریم کے متعلق یہ الزام لگانا بالکل غلط ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود جہالت میں مبتلا ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر رَیْن لگ گیا ہے۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے رَیْن کے معنے غالب آجانے اور زنگ لگ جانے کے ہی ہیں۔دلوں پر رین لگنے کی تشریح فراء کے نزدیک فرّاء کہتے ہیں کَثُرَتْ مِنْھُمُ الْمَعَاصِیْ وَالذُّنُوْبُ فَاَحَاطَتْ بِقُلُوْبِھِمْ فَذَالِکَ الرَّیْنُ یعنی رین کا مفہوم یہ ہے کہ اُن کے گناہ یا اُن کی نافرمانیاں اتنی بڑھ گئیں کہ اُن گناہوں اور نافرمانیوں نے اُن کے دلوں کا احاطہ کر لیا اور اُن کی اصلاح ناممکن ہو گئی۔حسنؔ کہتے ہیں کہ ھُوَ الذَّنْبُ عَلَی الذَّنْبِ حَتّٰی یَعْمَی الْقَلْبُ یعنی رَین کے معنے گناہ پر گناہ کئے جانے کے ہیں یہاں تک کہ دل اندھا ہو جائے ( فتح البیان زیر آیت ھذا)۔گویا فراء کے نزدیک قرآن کریم نے رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ کے الفاظ اِن معنوں میں استعمال فرمائے ہیں کہ اُن کے گندے اعمال نے اُن کے دلوں کا احاطہ کر لیا اور حسن بصری یہ کہتے ہیں کہ اُن کے بُرے اعمال کی وجہ سے یعنی اس وجہ سے کہ بار بار گناہوں کا عمل اُن سے صادر ہوا۔اُن کے دل صداقت کو معلوم کرنے کی قوت سے محروم ہو گئے۔رین کے لفظ کا اس وقت استعمال جب کوئی گندے اعمال میں پھنس جائے اور نکل نہ سکے ابو زیدؔ کہتے ہیں کہ یُقَالُ قَدْرِیْنَ بِالرَّجُلِ رَیْنًا اِذَا وَقَعَ فِیْمَا لَا یَسْتَطِیْعُ الْخُرُوْجَ مِنْہُ وَلَا قِبَلَ لَہٗ بِہٖ ( فتح البیان زیر آیت ھذا)یعنی قَدْرِیْنَ بِالرَّجُلِ رَیْنًا ایک محاورہ ہے اور یہ محاورہ اُس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی شخص ایسے گند میں مبتلا ہو جائے کہ نہ اُس سے نکل سکے اور نہ اُس کا مقابلہ کر سکے۔اِس لحاظ سے رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ کے معنے یہ ہوں گے کہ اُن کے اعمالِ بد کی وجہ سے آخر وہ دن آ گیا کہ اگر وہ چاہیں بھی کہ ہم بدی سے نکل جائیں تو وہ نہیں نکل سکتے تھے۔رین ،طبع اور اقفال میں فرق ابو معاذ نحوی کہتے ہیں کہ اَلرَّیْنُ اَنْ یَّسْوَدَّ الْقَلْبُ مِنَ الذُّنُوْبِ وَالطَّبْعُ اَنْ یُّطْبَعُ عَلَی الْقَلْبِ وَھُوَ اَشَدُّ مِنَ الرَّیْنِ وَالْاِقْفَالُ اَشَدُّ مِنَ الطَّبْعِ (تفسیر فتح البیان زیر آیت ھذا)یعنی رَین کے معنے گناہوں کی وجہ سے انسان کا دل سیاہ ہو جانے کے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں رَین کی جگہ طبعؔ کا لفظ بھی آتا ہے اور طبعؔ کے معنے یہ ہیں کہ اُن کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے۔اِسی طرح قرآن کریم میں کفّار کے دلوں کے متعلق اقفالؔ یعنی تالوں کا لفظ بھی آتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ طبعؔ کا لفظ رَینؔ سے زیادہ سخت ہے اور اقفالؔ کا لفظ طبع ؔ سے