تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 442

کے بھی ہوتے ہیں۔اُردو میں اس کا ترجمہ کیا جائےتو یہ ہو گا کہ بس بس رہنے دو! یا اس کا ترجمہ ہو گا۔ہوش سے بات کرو۔کُلّیات ابی البقاء میں لکھا ہے وَقَدْ تَجِیُٔ بَعْدَ الطَّلَبِ لِنَفْیِ اِجَابَۃِ الطَّالِبِ۔یہ کسی مطالبہ کے جواب میں آیا کرتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ مطالبہ کرنے والے کی بات ہم ماننے کے لئے تیار نہیں۔یعنی کبھی کبھی کَلَّا کا لفظ اِن معنوں میں استعمال ہوتا ہے یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہےوہ کہتے ہیں کہ یہ استعمال اُس وقت ہوتا ہے جبکہ مثلًا کسی نے تجھے کہا کہ اس اس طرح کام کرو۔اور تم آگے سے جواب دو کہ کَلَّا اَیْ لَایُجَابُ لِذَالِکَ۔یہ بات ایسی نہیں جسے کوئی مان نہ سکے۔اور کبھی یہ بمعنے حقًا بھی استعما ل ہوتا ہے جیسے آتا ہے کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی (اقرب) یعنی سچّی بات یہ ہے کہ انسان تو سرکشی کرتا ہے۔رَانَ: رَانَ الشَّیْ ئُ فُلَانًا وَعَلَیْہِ وَبِہٖ (یَرِیْنُ رَیْنًا وَرُیُوْنًا) کے معنے ہوتے ہیں غَلَبَ عَلَیْہِ (اقرب) گویا لفظ رَیْن تین طرح استعمال ہوتا ہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ رَانَ الشَّیْئُ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رَانَ عَلَی الشَّیْءُ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رَانَ بِہٖ اور ان تینوں صورتوں میں اس کے معنے ہوں گے۔اس پر غالب آگیا۔نیز کہتے ہیں رَانَتِ النَّفْسُ۔جس کے معنے ہوتے ہیں خَبُثَتْ وَغَثَتْ نفس گندہ ہو گیا یا فریب میں مبتلا کر دیا گیا۔(اقرب) اَلرَّیْنُ کے معنے ہوتے ہیں صَدَأٌ یَعْلُوا الشَّیْئَ الْجَلِیَّ۔وہ زنگ جو کسی چیز پر لگ جاتا ہے (مفردات) پس رَانَ کے معنے ہوں گے۔زنگ لگ گیا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے قرآن مجید کو اساطیر الاوّلین کہنے والو! ہوش کی دوا کرو! سنبھل کر بات کرو! اِس بات کا احساس کرو کہ تم کس چیز کے متعلق الزام لگا رہے ہو!۔بل کا عربی زبان میں دو معنوں کے لئے استعمال بَلْ کا لفظ جو اِس آیت میں استعمال ہوا ہے یہ تدارک کے لئے آتا ہے اور اس کے دو معنے ہوتے ہیں۔اوّل۔بَلْ کا لفظ ان معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے کہ (الف) اس سے پہلے بیان کی تردید اور بعد میں بیان ہونے والے مضمون کی تصدیق مقصود ہوتی ہے۔اور (بَاء) کبھی بَلْ سے پہلے بیان کر دہ مضمون کی تصدیق اور بعد میں بیان کر دہ مضمون کی تردید مقصود ہوتی ہے۔بَلْ سے پہلے بیان کردہ مضمون کی تردید اور بعد میں بیان کردہ مضمون کی تصدیق کی مثال یہی سورۂ تطفیف کی آیت ہے۔اِس میں بَلْ سے پہلے جو مضمون بیان ہوا ہے یعنی کفّار کا الزام کہ قرآن کریم اساطیر الاوّلین ہے اس کی تردید کی گئی ہے اور بَلْ کے بعد جو مضمون بیان ہوا ہے۔یعنی رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ اس کی تصدیق کی گئی ہے اور دوسرے استعمال یعنی پہلے کی تصدیق اور دوسرے کی تردید کی