تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 441
اِ س جگہ پر یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ جہاں کفّارِ مکہ نے اساطیر الاوّلین کا الزام قرآن کریم پر لگایا تھا وہاں آج تیرہ سو سال کے بعد یوروپین لوگوں نے بھی محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر یہی الزام لگایا ہے (ینابیع الاسلام) اور پادری ٹسڈل نے ’’ماخذقرآن‘‘ لکھ کر ثابت کیا ہے کہ قرآن دوسری کتابوں سے نقل کیا گیا ہے۔سورۂ تطفیف میں چونکہ یوروپین قوموں کا ذکر ہے اس لئے یہ بھی ایک مشابہت ہے جو یوروپین لوگوں کی کفّارِ مکّہ سے ہے۔کہ جو باتیں کفّار مکّہ نے کہی تھیں وہی اُنہوں نے کہنی شروع کر دیں اور اُن سے بھی خدا تعالیٰ نے ایسی کتابیں لکھوا دیں جن میں وہی اعتراض دُہرایا گیا ہے جو کفّارِمکّہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر کیا کرتے تھے۔گویااِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ میں یہ پیشگوئی مخفی تھی کہ آئندہ زمانہ میں جب عیسائی غالب آجا ئیں گے یہی الزام اسلام اور قرآن پر عائدکریں گے۔چنانچہ ’’ماخذ قرآن‘‘ میں خصوصیّت سے اِسی موضوع پر بحث کی گئی ہے کہ قرآن دوسری کتابوں کی نقل ہے۔اسی طرح اور بھی کئی کتابیں عیسائیوں کی طرف سے شائع ہو چکی ہیں جن میں قرآن کریم پر یہی الزام لگایا گیا ہے۔الغرض فرماتا ہے اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ یعنی جب اُن کے سامنے ہماری باتیں پیش کی جائیں گی تو وہ کہیں گے کہ یہ اساطیر الاوّلین ہیں یعنی یہ لوگ جو مکذّب بالدین ہیں جب اُن کے سامنے قرآن کریم کی تعلیم پیش کی جائے گی تو وہ کہیں گے کہ یہ کیا کتاب ہے اِس میں کچھ باتیں ویدؔ سے نقل کی گئی ہیں۔کچھ تورات سے نقل کی گئی ہیں۔کچھ انجیل سے نقل کی گئی ہیں۔کچھ ژندواؔوستا سے نقل کی گئی ہیں۔اس کا جوا ب اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں دیا ہے۔لیکن اگر کوئی غور کرنے والا ہو تو یہی جواب کتنا واضح ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر کیا الزام لگاتے ہو۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں جنہوں نے پہلے سے تمہاری نسبت یہ خبر دے رکھی تھی کہ تم ایک زمانہ میں ایسا الزام لگائو گے۔پس یہ الزام اُن کو جھوٹا ثابت کرنے والا نہیں بلکہ اُن کی صداقت کو اور بھی واضح کرنے والا ہے۔كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۰۰۱۴ ہر گز (ایسا) نہیں (جو وہ کہتے ہیں)بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) اُن کے دلوں پر اُس نے جو وہ کما چکے ہیں۔زنگ لگا دیا ہے۔حَلّ لُغَات۔کَلَّا: مَعْنَاہُ الرَّدْعُ وَالزَّجْرُ یعنی کَلَّا کے معنے زجر کے بھی ہوتے ہیں اور دھتکارنے