تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 440

پیش کر دیا جاتا ہے اِ س میں تمہاری کیا خوبی ہے۔غرض کفار کے یہ تین اعتراض اساطیرؔ کے تین معنوں کے مطابق ہیں اور قرآن کریم نے بھی اُن کے الگ الگ جواب دئے ہیں۔اس جگہ چونکہ تعلیمات کا بھی ذکر تھا اور بعث بعد الموت کا بھی اور بعث قومی کا بھی اس لئے یہاں جو جواب دیا گیا ہے وہ اِن تینوں مضمونوں پر مشتمل ہے۔چنانچہ بعثِ قریب کا جو انکار تھا اُس کے متعلق فرماتا ہے کہ اقوامِ مغرب جو سمجھتی ہیں کہ اُن کو کوئی تنزل نہیں آئے گا آخر اِسی دُنیا میں گر جائیں گی۔ذلیل ہو ں گی اور اسلام اُن کی جگہ لے لے گا اور یہ ثبوت ہو گا بعثِ بعد الموت کے قائم ہونے کا۔گویا اِس ایک بعث سے دوسرے بعث کا ثبوت مل جائے گا۔تیسری بات یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام پر نقل کا الزام لگاتے تھے اس کا جواب یہ دیا کہ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَمحمد رسول اللہ ؐ بیشک نقل کرتا ہے مگر جب بھی کرتا ہے موسٰی اور عیسٰیؑ کی ہی کرتا ہے۔یہ مان لو کہ وہ نقل کرتا ہے مگر آخر یہ کیا بات ہے کہ وہ جب بھی نقل کرتا ہے موسیٰ ؑاور عیسٰیؑ اور دوسرے انبیاء ؑ کی ہی کرتا ہے اور تم جب بھی نقل کرتے ہو فرعون اور اس کے ساتھیوں کی ہی کرتے ہو۔پھر تمہارے مُنہ پریہ زیب کس طرح دیتا ہے کہ تم کہتے ہو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم جھوٹے ہیں آخربات کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ جب بھی پڑتا ہے موسٰی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور تمہارا ہاتھ جب بھی پڑتا ہے فرعون پر پڑتا ہے۔وہ نبیوں کی تعلیمات پر چلتا ہے اور تم اُن نبیوں کی تعلیمات سے دُور بھاگتے اور شیاطین کے پیچھے جاتے ہوآخر کوئی مشابہت صحیحہ ہی ہے جو دونوں میں کام کر رہی ہے۔اگر دونوں کی باتیں علّیّین کے ہمرنگ ہوتیں اور کفّار بھی انبیاء ؑکی سی باتیں کہتے تو معاملہ مشتبہ ہو جاتا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے کیونکہ وہ بھی موسیٰ ؑکی بات کہتے اور یہ بھی موسیٰ ؑکی بات کہتا وہ بھی عیسٰیؑ کی بات کہتے اور یہ بھی عیسٰیؑ کی بات کہتا۔اُن کے اعمال بھی موسیٰ ؑکی طرح کے ہوتےاور اُس کے اعمال بھی موسیٰ ؑکی طرح کے ہوتے۔اُن کے اعمال بھی عیسٰیؑ کی طرح کے ہوتے ہیں اور اُس کے اعمال بھی عیسٰیؑ کی طرح کے ہوتے۔مگر یہاں تو ایک بیّن فرق اور نمایاں امتیاز نظر آتا ہے۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے اعمال موسٰیؑسے ملتے ہیں اور تمہارے اقوال اور تمہارے اعمال فرعون سے ملتے ہیں۔یہ ابرارؔ کے قدم پر چلتا ہے اور تم فجّارؔ کے قدم پر چلتے ہو اور خود اپنے نبیوں کے خلاف تعلیمات دیتے ہو یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نبیوں کے نقشِ قدم پر ہے اور تم اُ س کے دشمنوں کے قدم پر ہو۔پس نقل کا الزام بالکل غلط ہے یہ نقل نہیں بلکہ مشابہت ہے اور مشابہت بھی علّیّین کی۔اس لئے یہ مشابہت اس کی سچّائی کی علامت ہے۔