تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 439
اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے بھی یوں کیا۔یہی طریق رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے مخالفین کا تھا۔وہ بھی کہتے کہ تم تولوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے پہلے مقدس لوگوں کی زندگی کی مثالیں اپنے اُوپر چسپاں کر لیتے ہو حالانکہ تم سے وہ معاملہ نہیں ہو گا۔وہ سچّے تھے اور تم نعوذباللہ جُھوٹے ہو۔تیسرا موقعہ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کہہ کر الزام لگانے کا یہ ہوتا تھا کہ کفّار اسلام کی تعلیم کی مشابہت پہلے نبیوں کی تعلیم سے دیکھ کر کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی باتوں کی نقلیں ہیں۔مثلًا قرآن کو دیکھا کہ اُس میں ایک تعلیم دی گئی ہے اور پھر وہی تعلیم اُنہیں یا موسٰیؑیا عیسٰیؑ کی کتاب میں نظر آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ پہلے بزرگوں کی تعلیمات کو تم نقل کر کے پیش کر دیتے ہو تمہاری اِس میں کیا خوبی ہے۔گویا تعلیمات کی خوبی وہ تسلیم کرتے تھے۔ان تعلیمات کے پیش کرنے والوں کی بزرگی کو بھی وہ تسلیم کرتے تھے۔مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کا انکار کرتے تھے محض اس لئے کہ نقل سے کسی کی برتری ثابت نہیں ہوتی۔اگر تم نے موسٰی کی تعلیم کی نقل کر لی ہے یا عیسٰیؑ کی تعلیم کی نقل کر لی ہے تو یہ کس طرح ثابت ہو گیا کہ تم اپنے دعویٰ میں سچّے بھی ہو۔غرض اِن تین مواقع پر الگ الگ اعتراض ہیں اور الگ الگ معنوں میں کفّار نے اِس دلیل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے کبھی وہ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کے یہ معنے لیتے تھے کہ یہ پہلوں کی نقل کی ہوئی حکایتیں ہیں۔کبھی کہتے کہ یہ پہلوں کے متعلق بے جوڑ باتیں ہیں یُونہی ان انبیاء کے واقعات اپنے اُوپر چسپاں کرنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ نہ کوئی تعلق ہوتا ہے نہ جوڑ ہوتا ہے نہ واسطہ ہوتا ہے۔پھر کبھی اِن معنوں میں وہ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کہا کرتے کہ یہ پہلوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں۔یعنی جو تعلیمیں پیش کی جارہی ہیں وہ وہی ہیں جو موسیٰ ؑیا عیسٰیؑ یا اور انبیاء نے دیں کوئی نئی تعلیم اُن میں نہیں ہے۔جب انکارِ قیامت کے موقعہ پر وہ ایسا کہتے تھے تو اُن کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ پہلے لوگوں نے بھی ایسے قصّے بنا لئے تھے اب تم نے بھی ویسی باتیں کہنی شروع کر دی ہیں نہ پہلے لوگوں کے کہنے کے بعد قیامت آئی اور نہ اب قیامت آسکتی ہے۔وہ بھی جُھوٹا ڈراوا دیتے رہے اور تم بھی جُھوٹا ڈراوا دے رہے ہو۔گویا وہ بھی جھوٹے اور تم بھی جھوٹے۔جب وہ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کا الزام اِ س طور پر لگایا کرتے تھے کہ پہلے لوگوں کے متعلق بے جوڑ باتیں کہی جاتی ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ باتیں تو سچّی ہیں اور پہلے راستباز بھی سچّے تھے مگر تم یونہی اُن باتوں کو اپنے اُوپر چسپاں کرنے لگ گئے ہو حالانکہ وہ سچّے تھے اور تم جھوٹے ہو۔تیسرے اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کا الزام وہ اِن معنوں میں لگایا کرتے تھے کہ پہلے بزرگوں کی تعلیمات کونقل کر کے