تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 438

محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کفار سے ملائو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہی کے حالات لکھے ہوئے ہیں۔پس فجّار جو کچھ کر رہے ہیں وہ پہلے کفار کی کتابوں میںمل جائیں گے۔اس لئے نقل تو وہ بھی کرتے ہیں مگر سجّین کی اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم بھی بے شک نقل کرتے ہیں مگر عِلّیّین کی۔چنانچہ محمدرسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اعمال پر اگر تم غور کرو تو وہ تمہیں موسیٰ ؑاور اور عیسٰیؑ اور ابراہیمؑ اور نوح ؑ اور دوسرے انبیاء میں نظر آ جائیں گے اور یہ سیدھی بات ہے کہ نیک نیک کی نقل کرے گا اور بُرا بُرے کے پیچھے چلے گا۔پس یہ الزام بے حقیقت ہے اس میں گویا یوں جواب دیا کہ نقل کرنا بھی تو آسان کام نہیں۔آخر وجہ کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے تو موسٰی کی نقل کر لی۔عیسٰیؑ کی نقل کر لی۔ابراہیمؑ کی نقل کر لی۔نوح ؑ کی نقل کر لی۔مگر تم نے نہ کی؟ آخر تم جو کہتے ہوکہ اُس نے نقل کر لی۔نقل کرلی۔تم بھی نقل کر لو۔مگر تمہارا سجّین والوں کی نقل کرنا اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا عِلّیّین والوں کی نقل کرنایہ خود اپنی ذات میں محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی ایک خوبی کا ثبوت ہے الزام کی بات نہیں۔اِس سوال کا ایک اور جواب سورۂ فرقان میں آ چکا ہے۔اُوپر کے جوابات سے ظاہر ہے کہ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کفّار نے تین مواقع پر کہا ہے۔ایک انکارِ قیامت کے موقع پر یعنی جب بھی قیامت کا ذکر کیا جاتا وہ کہتے تھے کہ پہلے لوگ بھی ایسا ڈراوا جھوٹے طور پر دیتے رہے ہیں اور تم بھی یہ ڈراوا جھوٹے طور پر دے رہے ہو۔پہلوں کی بات بھی جھوٹی نکلی اور تمہاری بات بھی جُھوٹی ہے اب تک تو قیامت آئی نہیں۔اس موقع پر کفار پہلوں کو بھی جُھوٹا کہتے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جھوٹا کہتے تھے کہ نہ پہلوں کی بات پُوری ہوئی اور نہ تمہاری بات پوری ہو گی۔دوسرا موقعہ جب کفار اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کہہ کر الزام لگایا کرتے تھے وہ ہوتا تھا جب بعثِ قریب کا اُن کے سامنے ذکر کیا جاتا۔جب اسلام کی ترقی اور اُس کے غلبہ کا ذکر کیا جاتا اور کُفر کی تباہی کی پیشگوئیاں کی جاتیں تواِس موقعہ پر بھی وہ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کہہ دیا کرتے تھے۔مگر اِ س موقعہ پر وہ پہلوں کو جُھوٹا نہیں قرار دیتے تھے بلکہ یہ کہتے تھے کہ پہلے راستبازوں کی زندگی کی مثالیں تم اپنے اُوپر چسپاں کر لیتے ہو اور اس طرح لوگوں کو مرعوب کرتے ہو حالانکہ تم سے وہ معاملہ نہ ہو گا کیونکہ وہ سچے تھے اور تم نعوذ باللہ جھوٹے ہویہ ایسی ہی بات ہے جیسے آج کل غیر احمدیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ تم مرزا صاحبؑ کی صداقت ثابت کرتے ہوئے حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نام کیوں لیتے ہو یا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مثالیں کیوں پیش کرتے ہو اُن کا اور تمہارا آپس میں جوڑ ہی کیا ہے کہ تم پہلے راستبازوں کی مثالیں دینی شروع کر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ موسٰی نے بھی یوں کیا اور عیسٰیؑ نے بھی یوں کیا اور محمد رسول