تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 436

ذکر کرتے ہیں جس سے دوسری قیامت ہی مراد ہو سکتی ہے۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ بعث بعد الموت کا کوئی وعدہ نہ تھا تم غلط کہتے ہو یا قیامتِ کُبریٰ کا کوئی وعدہ نہ تھا تم غلط کہتے ہو۔بلکہ وہ اُن کے اعتراض کو اس جہت سے تسلیم کرتا ہے کہ ایسا وعدہ تھا اور دوسری جہت سے اِس کی تردید کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں یہ بات ہے اور خدا بڑی قدرتوں والا ہے۔پس اپنے وقت پر جا کر یہ بات پوری ہو جائے گی۔سورۂ فرقان کی آیتوں سے ظاہر ہے کہ وہاں تعلیمات کا ذکر ہے اور الزام یہ لگایا گیا ہے کہ پُرانی تعلیمات کو نقل کر کے پیش کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اِس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس تعلیم میں جو قرآن کریم پیش کرتا ہے رازِ کائنات اور رازِ فطرت مخفی ہیں۔اسرارِ آسمانی اور اسرارِ زمینی دونوں کو اِس میں کھول دیا گیا ہے یعنی خدا کا معاملہ جوبندوں سے ہوتا ہے اور بندوں کا معاملہ جو خدا سے ہوتا ہے اُس پر پُوری تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور مختلف مواقع پر بندے جس فطرت کا اظہار کرتے ہیں اُس کا اس تعلیم میں اظہار ہے۔پھر جس تعلیم میں تمام قسم کی فطرتوں کے راز بیان ہیں خواہ وہ عرب میں ہوں یا ہندوستان میں ہوں۔یا امریکہ میں ہوں یا یورپ میں ہوں۔اور ہر قسم کی فطری ضروریات کا سامان اُس میں موجود ہے۔اُدھر خدا تعالیٰ کے تمام قسم کے سلوک جو بندوں سے ہوتے ہیں چاہے وہ پہلے ہوئے ہیں یا نہیں اُن سب کو اس میں بیان کیا گیا ہے تو تم ان میں سے کس کس تعلیم کو نقل قرار دو گے۔اور کون سی سابق تعلیم ایسی ہے جس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔پہلی کتابیں وہ تھیں جن کا دائرئہ ہدایت بہت محدود تھا۔وہ محدود الز مان اور محدود الاوقات تعلیمات تھیں اور پھر صرف ایک ایک علاقہ کے لئے تھیں ساری دُنیا کے لئے نہیں تھیں۔اِسی لئے اِن کتب میں ہر فطرت کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔تورات میں صرف یہودی قوم کو مدنظر رکھا گیا ہے باقی قوموں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔اِسی طرح سارے زمانوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا مگر قرآن وہ کتاب ہے جو ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے۔وہ یہودیوںؔ کے لئے بھی ہے۔وہ عیسائیوںؔ کے لئے بھی ہے وہ مسلمانوں کے لئے بھی ہے وہ ہندوئوں کے لئے بھی ہے۔وہ یوروپین لوگوں کے لئے بھی ہے۔وہ چینیوں کے لئے بھی ہے۔وہ جاپانیوں کے لئے بھی ہے۔وہ وحشیوں کے لئے بھی ہے اور غیر وحشیوں کے لئے بھی ہے۔غرض کوئی قوم ایسی نہیں جس کی ہدایت کے لئے قرآن نہ آیا ہو اور کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں قرآن کی ضرورت سے انکار کیا جا سکتا ہو۔اِسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نہایت جامع ہدایات نازل فرمائی ہیں جو ہر فطرت کے مطابقِ حال ہیں اور ہر زمانہ میں اُن پر عمل کیا جا سکتا ہے۔جب قرآن کریم کی یہ شان ہے تو یہ لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرآن پہلی کتابوں کی نقل ہے۔