تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 437

سورۂ نمل میں فرمایا ہے وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۔لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اِس آیت میں اُ س طرح کامضمون بیان ہوا ہے جس طرح سورۂ مومنون میں بیان کیا گیا تھا وہاں بھی فرمایا گیا تھا کہ قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠۔لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ پس جو مضمون سورۂ مومنون میں بیان کیا گیا تھا وہی ایک ادنیٰ تغیر سے سورۂ نمل میں بیان کیا گیا ہے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اُن کے اعتراض کو ردّ نہیں کیا بلکہ قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ (النمل:۷۰ ) کہہ کر وہی جواب دیا گیا ہے جو سورۂ مومنون میں دیا تھا۔اور اعتراض کو صحیح تسلیم کر کے اس کا ردّ بتایا ہے کہ یومِ آخر لازم و ملزوم ہے دُنیوی قیامت سے۔جب یہ ہو گئی تو سمجھو کہ وہ بھی ضرور ہو گی۔ساتویں آیت سورۂ احقاف کی ہے اُس میں آتاہے فَیَقُوْلُ مَا ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ مگر اس سے پہلے ہے وَ الَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِيْۤ۔۔۔۔۔قَبْلِیْ وَھُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَکَ اٰمِنْ۔اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ اِس جگہ پر بھی قیامت کبریٰ کا ذکر ہے اور اس کا انکار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پہلے لوگوں نے بھی کہہ دیا تھا کہ قیامت آئے گی قیامت آئے گی اور اب تم نے بھی اُس ذکر کو دُہرا دیا۔آٹھویں آیت سورۂ ن والقلم کی ہے۔اِس میں کفّار کی طرف سے پیشگویئوں کا انکار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ گزشتہ نبیوںکے ذکر سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہمیں ڈرایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اِس کا جواب یہ دیتا ہے کہ جب عملًا تم پر عذاب آجائے گا پھرتو نہ کہو گے یہ صرف گزشتہ نبیوں کے واقعات سے ہمیں ڈراتا ہے پھر تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ پیشگوئیاں ہیں یعنی جب یہ پیشگوئیاں ہیں تو نقل کس طرح ہو گئی۔جب تمہاری ناک پر نشانِ ذلّت لگے گا۔تم پر آسمان سے عذاب نازل ہو گا۔تم دُنیا میں بالکل ذلیل اور حقیر ہو جائو گے اور اسلام ترقی کر جائے گا تب تمہیں معلوم ہو گا کہ یہ گزشتہ لوگوں کی کہانیاں ہیں یا پیشگوئیاں ہیں۔نویں آیت یہی سورۂ تطفیف کی آیت ہے جو اِس وقت زیر بحث ہے۔اِس میں تینوں باتوں کا ذکر ہے۔تعلیمات کا بھی اور بعثِ قریب اور بعثِ بعید کا بھی کہ ان کو یہ لوگ غلط قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پُرانی تعلیمات ہیں یا پُرانی حکایات ہیں یا پُرانے لوگوں نے بھی اِسی طرح ڈرایا تھا مگر ہوا اس طرح نہیں۔فرماتا ہے یہ دونوں امور پُورے ہو کر رہیں گے۔بعثِ قریب بھی اور بعثِ بعید بھی اور اُن کا نقل کا الزام بھی درست نہیں ہے کیونکہ نقّال تو یہ بھی ہیں چنانچہاِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ کہہ کر اس بات کو واضح کیا ہے کہ جو پہلے انبیاء کے دُشمنوں کے حالات ہیں وہ