تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 435
سورۂ نحل میں بھی یہی مضمون ہے کہ گزشتہ لوگوں کی باتوں کی نقل کرتے ہیں کیونکہ وہاں مضمون یہ آتا ہے کہ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اللہ تعالیٰ اُن کی توجہ اس طرف پھیرتا ہے کہ یہ نقل ہی سہی مگر محمد رسول اللہؐ اچھوں کی نقل کرتا ہے اور تُم بُروں کی نقل کر رہے ہو کیونکہ آگے فرماتا ہے قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ۔(النحل :۲۷)ایسی باتیں پہلے لوگ بھی کرتے چلے آئے ہیں۔گویا فرماتا ہے بیشک تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہہ دو کہ وہ موسیٰ ؑ کی نقل کرتا ہے یا ابراہیمؑ کی نقل کرتا ہے یا کسی اور نبی کی نقل کرتا ہے بہرحال اِس سے یہ ثابت ہو گا کہ وہ موسیٰ ؑیا ابراہیم ؑ کی نقل کر ر ہا ہے مگر تم اپنے اعمال کو دیکھو تم وہ کچھ کر رہے ہو جو فرعون نے کیا تھا یا موسیٰ ؑاور عیسٰی ؑ کے دشمنوں نے کیا تھا یا نوح ؑ کے دشمنوں نے کیا تھا۔سو جس طرح پہلوں نے مخالفت کر کے نقصان اُٹھایا تھا تم بھی اُن کی نقل کر کے نقصان اُٹھائو گے مگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر الزام تو اُن لوگوں کی نقل کاہے جو مقبولانِ بارگاہِ الٰہی تھے۔اِس جگہ قیامت کا بھی ذکر ہے اور ساتھ ہی توحید کی تعلیم کا بھی۔اور بتایا یہ گیا ہے کہ توحید اور قیامت کے متعلق محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم جو تعلیم دیتے ہیں تم اُسے بے شک نقل کہہ لو مگر بہرحال یہ وہی تعلیم ہےجو مُوسٰیؑاور عیسٰیؑ نے دی۔تم اس تعلیم کی مخالفت کرتے ہواس لئے تمہاری مثال وہی ہے جو فریسیوں اور فقیہوں اور نمرود اور شدّاد وغیرہ کی تھی۔نقل کرنے والا آخر اُس کے ساتھ ہی رہے گا جس کی وہ نقل کرتا ہے پھر تمہیں خوشی کس بات کی ہے۔سورۂ مومنون سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہاں قیامتِ اُخروی کا ذکر ہے۔کافر کہتے ہیں کہ قیامت کا ذکر پہلے لوگ بھی کرتے چلے آئے ہیں مگر اب تک آئی نہیں۔جب پہلے لوگ بھی اس کا ذکر کرتے رہے اور اُن کے کہنے سے آئی نہیں تو تمہارے کہنے سے قیامت کس طرح آجائے گی۔اللہ تعالیٰ اِس کا جواب دیتا ہے کہ خدا قدرتوں والا ہے یہ سوال کہ قیامت نہیں آئی اس کے دو ہی معنے ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ خدا قیامت نہیں لا سکتا دوسرے یہ کہ قیامت اب تک کیوں نہیں آئی۔فرماتا ہے خدا کے فعل تمہارے سامنے ہیں اُن کو دیکھ کر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قیامت نہیں آ سکتی۔باقی رہا یہ کہ وہ نہیں آئی سو جب آئے گی آجائے گی یہ کیا سوال ہے کہ وہ اب تک نہیں آئی اپنے وقت پر یہ بات پُوری ہو جائے گی۔سورۂ مومنون کی اِس آیت سے قیامت کے وعدے کا بھی ثبوت ملتا ہے اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ صرف اِس دُنیا کی قیامت کا ذکر قرآ ن کریم میں ہے اُن کی بھی تردید ہوتی ہے کیونکہ اِس دنیا کی قیامت کا وعدہ قرآن کریم میں تھا۔مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ گویا وہ اپنے اباء کا بھی