تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 434
الْخُرْطُوْمِ۔(القلم:۱۶،۱۷) (۹) آخری مقام یہی سورۂ تطفیف ہے جو زیر بحث ہے۔اِس میں فرماتا ہے وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ۔اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ(تطفیف:۱۴) قرآن مجید کو اساطیر الاولین کہنے والوں کی تردید اِن آیات کو دیکھنے سے معلو م ہوتا ہے کہ سورۂ انعام کی آیت میں اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اِس ذکر میں ہے کہ پُرانی کتب کی پیشگوئیاں اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نئے نشانات جب اُن کو دکھائے جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پُرانے زمانہ کی باتیں دُہرائی جاتی ہیں گویا پیشگوئیاں نہیں ہیں بلکہ پُرانی کتب کی باتوں کو دھوکا دینے والے طریق سے پیش کر کے مطلب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔مثلاّ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ موسیٰ ؑ کی بات کو دیکھو جو فرعون کے سامنے ہوئی اور پھر فرعون کا انجام۔گویا ہمیں ڈرایا جاتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ ؑ کا مقابلہ کیا اور وہ تباہ ہو گیا اگر ہم بھی مقابلہ کریں گے تو تباہ ہو جائیں گے۔حالانکہ تمہاری موسیٰ ؑسے کیا نسبت ہے۔یا ابراہیم ؑ کا ذکر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے دشمن تباہ ہوئے حالانکہ تمہاری ابراہیمؑ سے کیا نسبت ہے۔اللہ تعالیٰ اِس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب آخری نتیجہ نکلے گا اُس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ کاش ہم مخالفت نہ کرتے جیسا کہ فتح مکّہ کے وقت ہوا۔مَیں نے اس کی مثال بھی دی تھی کہ عرب کے بڑے بڑے سرداروں کے بیٹے حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہاں اُن کی موجودگی میں پے در پے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے غلام صحابہؓ حضرت عمرؓ کے ملنے کے لئے آئے۔جب بھی کوئی صحابی آتا جو کسی وقت اُن کا یا اُن کے باپ دادا کا غلام رہ چکا تھا اور وہ لوگ اُس سے کئی قسم کے مشقّت طلب کام لیا کرتے تھے۔تو حضرت عمرؓ اُن رئوسا ء مکّہ سے کہتے اِن کے لئے جگہ چھوڑ دو۔یہاں تک کہ وہ ہٹتے ہٹتے جُوتیوں میں جا پہنچے اور پھر ناراض ہو کر وہاں سے اُٹھے اور باہر آ کر انہوں نے آپس میں کہا کہ آج ہماری کیسی ذلّت ہوئی ہے ایک نوجوان جو اُن میں سے زیادہ سمجھدار تھا کہنے لگا کہ یہ کس وجہ سے ذلّت ہوئی ہے آخر ہمارے باپ دادا کے کاموں کی وجہ سے ہی ہوئی ہے اگر ہمارے باپ دادا مخالفت نہ کرتے اور یہ لوگ اسلام کے لئے قربانیاں نہ کرتے تو ان کو عزّت کس طرح ملتی اور ہمیں یہ ذلّت کا دن آج کیوں دیکھنا پڑتا۔یہی مضمون سورۂ انعام میں بیان کیا گیا ہے کہ اُس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ کاش ہم مخالفت نہ کرتے مگر اُس وقت اِس افسوس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔سورۂ انفال میں پیشگوئیوں کا ذکر نہیں بلکہ تعلیمات کا مقابلہ ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ لَوْ نَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَا یہ تو پہلی کتب کی نقل ہے چاہیں تو ہم بھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔