تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 418
کَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍؕ۰۰۸وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا ایسا نہیں (جو یہ سمجھتے ہیں) بدکاروں (کی جزا) کا حکم یقیناً سِجّین میں ہے اور تجھے کس نے بتایا ہے کہ سجین کیا ہے۔سِجِّيْنٌؕ۰۰۹كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ۰۰۱۰ وہ ایسا حکم ہے جس (کے اٹل ہونے) پر مُہر لگائی گئی ہے۔حَلّ لُغَات۔سِجِّیْنٌ سِجِّیْنٌکے لغت میں دو معنے لکھے ہیں (۱)اَلدَائِمُ (۲)اَلشَّدِیْدُ (اقرب) یعنی سجِّین کے لفظ کے معانی عربی زبان میں دائم اور شدید کے ہوتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں اس لفظ کے کوئی بھی معنے نہیں ہیںکیونکہ یہ عربی لفظ نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں اصل میں سجّین کا نون۔لام سے بدلہ ہوا ہے اور یہ لفظ سجل سے نکلا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ (الانبیاء:۱۰۵) اس صورت میں اس کے معنے تحریر کرنے کے ہیں اور یاپھر یہ لفظ سِجِّیْل بمعنی اَن گھڑے پتھر کے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ (الفیل:۵) لیکن یہ استدلال درست نہیں اس لئے کہ سجّین کے معانے فراءؔ اور زجاجؔ اور ابوعبیدہؔ نے کئے ہیں اور یہ لوگ علم ادب میں بہت بلند مرتبہ رکھنے والے تھے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک لفظ عربی زبان کا تونہ ہو اور وہ اس کے معنے کرنے لگ جاتے۔اپنے معنوں کی تائید میں انہوں نے بعض اشعار بھی نقل کئے ہیں (روح المعانی )جن میں سجِّین کا لفظ پُرانے شعراء نے استعمال کیا ہے پھر جب ہم ذاتی طور پر غور کرتے ہیں تو ہمیں عربی زبان میں اس لفظ کے اَور مادے بھی مل جاتے ہیںمثلاً سَجَنَہٗ سَجْنًا کے معنے ہوتے ہیں حَبَسَہٗ فِیْ سِجْنٍ اس کو قید خانہ میں بند کر دیا۔اور سَجَنَ الْھَمَّ کے معنی ہوتے ہیں اَضْمَرَہٗ اس نے اپنے غم کو چھپا لیا۔(اقرب) پس جب کہ اس لفظ کے دوسرے مادے عربی زبان میں استعمال ہوتے ہیں اور جب کہ عربی زبان کے ماہرین نے اس کے معنے دائم اور شدید کے کئے ہیں تو یہ خیال کر لینا کہ یہ لفظ عربی زبان کا نہیں بلکہ کسی اَور زبان کا ہے جسے عربی زبان میں شامل کر لیا گیا ہے قطعًا غلط اور بے بنیاد بات ہے۔درحقیقت یہ ایک غلطی ہے جو بعض عرب مفسّروں کو لگی ہے۔جب وہ ایک لفظ کو جو عام طور پر عربی میں استعمال نہیں ہوتا دیکھتے ہیں تو فوراً یہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ عربی کا لفظ نہیں حالانکہ دوسرے ماہرین لغت اسے عربی کا لفظ قرار دیتے ہیں۔ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر آج کل کے عیسائی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اعتراض کرتے