تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 416
غافل ہوتا ہے تو وہ موت ہی ہے۔اسی طرح یہ عجیب بات ہے کہ دنیا کی ہر قوم مر چکی ہے اور جو قومیں آج موجود ہیں وہ بھی ایک دن مر جائیں گی مگر قومیں سب سے زیادہ اس موت سے غافل رہتی ہیں۔قرآن کریم نے اس امر پر بڑا زور دیا ہے اور بار بار فرمایا ہے کہ بتائو کہ کیا کوئی قوم ایسی بھی ہے جو موت سے بچی ہو۔تاریخی لحاظ سے اگر تحقیق کی جائے تو ایک ہزار سے کم اُن اقوام کی تعداد نہیںنکلے گی جنہوں نے اپنے اپنےزمانہ میں دنیا پر اس قدر غلبہ پایا کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ان قوموں نے میدان کو جیت لیا ہے اور اُن فاتح اقوام نے بھی اپنے غرور میں یہ خیال کرنا شروع کر دیا کہ گز شتہ قومیں تومر گئیں۔عروج کے بعد زوال سے ہمکنا ر ہو گئیں۔عزت کے بعد ذلّت کے گڑھے میں گر گئیں مگر ہم اس ترقی کے بعد مر نہیں سکتیں مگر آخر وہ وقت آیا جب وہ فاتح اقوام بھی مٹ گئیں وہ بھی تباہ اور برباد ہو گئیں اور اُن کا نام بھی دنیا سے ناپید ہو گیا۔مسیحی اقوام کا اپنی موت سے غافل ہونا پس فرماتا ہے یہ مغربی اقوام جنہوں نے ظلم پر اپنی کمر باندھی ہوئی ہے جو دنیا پر آفت ڈھا رہے ہیں اور جو لوگوں کے حقوق کو دباتے چلے جا رہے ہیں اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ۔لِيَوْمٍ عَظِيْمٍ۔کیا اُن کو کبھی خیال نہیں آتا کہ ہمارا ایک اور بعث بھی ہونے والا ہے اُس بڑے دن کے لئے جس دن وُہ رب العالمین خدا کے سامنے پیش ہوں گے اور خُدا اُن سے کہے گا کہ کیا ایشیائی میر ے بندے نہیں تھے۔کیا افریقن میرے بندے نہیں تھے۔پھر تم نے کیا کِیا کہ اُن سے ظالمانہ سلوک روا رکھا؟ جب یہ یوم البعث آئے گا تو رب العالمین خدا ان کو نیچے کر دے گا اور جو نیچے ہوں گے اُن کو اوپر کر دے گا اسی کی طرف بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ(العٰدیٰت:۱۰) میں اشارہ کیا گیا ہے۔بَعْثَرَ کے معنے ہوتے ہیں زمین کو اُلٹ دینا اُوپر کی چیز کو نیچے اور نیچے کی چیز کو اوپر کر دینا۔اللہ تعالیٰ بھی اُس دن ایسا ہی کرے گا کہ ان حاکم اقوام کو تختِ حکومت سے محروم کر دے گا۔اور اُن لوگوں کو جنہیں یہ ذلیل قرار دیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ حکومت کے تخت پر بٹھا دے گا۔غالب اقوام کا مغلوب ہوجانا درحقیقت قوموں کی ترقی اور اُن کا تنزل ایک دَوری کیفیت رکھتا ہے۔جس طرح بچے آپس میں کُشتی کرتے ہیں تو ایک بچہ دوسرے کو گرا کر اُس کے سینہ پر چڑھ جاتا ہے۔ماں باپ یہ نظّارہ دیکھتے رہتے ہیں آخر جب دیکھتے ہیں کہ اُوپر والا اُترتا نہیں تو اُس کی ٹانگ گھسیٹ کر کھینچ لیتے ہیں اور پھر دوسرا بچہ اس کے سینہ پر چڑھ جاتا ہے۔یہی حال قوموں کا ہے اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک قوم اپنےغلبہ سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے تو اُسے گھسیٹ کر حکومت کے تخت سے اُتار لیتا ہے اور محکوم قوموں کے ہاتھ میں بادشاہت کی باگ دوڑ دے دیتا ہے۔دُنیا میں قوموں کے بڑے بڑے لمبے غلبے ہوئے ہیں۔عیسائیت کا غلبہ تو صرف تین سو سال ہے۔