تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 414

دیا جاتا ہے مثلا ًگرمی سردی کا اکٹھا ذکر کرنا ہو تو خالی گرمی یا خالی سردی کا ذکر کر دیا جائے گا۔یا سورج چاند کا اکٹھا ذکر کرنا ہو تو صرف سورج کا ذکر کر دیا جائے گا اور چاند کا ذکر اسی میں شامل سمجھ لیا جائے گا۔مفسرین کی اس بات پر بحث کہ کَالُوْھُمْ اَوْ وَزَنُوْھُمْ میں کیل کے ساتھ وزن کے لفظ کا کیوں اضافہ کیا گیاہے پس یہ صحیح ہے کہ دو قرابت رکھنے والے الفاظ میں سے بعض دفعہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر حصرکر لیا جاتا ہے لیکن اس جواب سے تسلی نہیں ہوتی۔کیونکہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دوسری آیت میں کَالُوْھُمْ کے ساتھ اَوْوَّزَنُوْھُمْ کیوں بڑھایا گیا وہاں بھی کَیل کے ذکر پر ہی کفایت کی جاتی اور وزنؔ کا ذکر ساتھ نہ کیا جاتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ کَیل میں نقصان کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے لیکن وزن میں نقصان کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں چیزیں ماپنے کے لئے ٹوپہ ہوتا ہے یا بعض لوگوں نے آدھ آدھ سیر یا پائو پائو وزن کے گلاس رکھے ہوئے ہوتے ہیں یا بعض گڈویاں ایسی ہوتی ہیں جن میں معیّن اندازہ کی چیز آجاتی ہے۔ایسے اندازہ کے جو برتن ہوتے ہیں خواہ ٹوپہ ہو یا گلاس یا گڈویاں ہوں ان میںکمی صرف ایسی ہی ہوسکتی ہے جو نظری ہو۔یہ نہیں ہو سکتا کہ سیر میں سے پائو کم ہو جائے۔اِتنا تو ہو سکتا ہے کہ ماپتے وقت ذرا سے کنارے نیچے رہ جائیں مگر اس سے زیادہ کمی نہیں آسکتی لیکن وزن میں بڑی بھاری کمی کی جا سکتی ہے اور ڈنڈی مارنے کا فن ایسا ہے کہ سیر کی جگہ بعض دفعہ تین تین پائو چیز رہ جاتی ہے اور لینے والے کو بھی معلوم بھی نہیں ہوتا کہ میرے ساتھ دھوکا کیا جا رہا ہے لیکن صاع میں یا ٹوپہ میں یا پڑوپی میں سیر میں پائو کا فرق کبھی نہیں پڑے گا پس چونکہ وزن میں بہت زیادہ نقصان ہو سکتا ہے اس لئے جہاں لینے کا سوال تھا وہاں صرف اِکْتَالَ کا لفظ استعمال کر دیا اور بتا دیا کہ جب وہ ما پ کے ذریعہ لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اس میں آپ ہی یہ مضمون بھی آ گیا کہ جو لوگ تھوڑا نقصان برداشت نہیں کر سکتے وہ بڑا نقصان کب برداشت کر سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ جب لوگوں سے ماپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں تو اس سے آپ ہی یہ نتیجہ نکل آیا کہ جو لوگ کم نقصان بھی جو ماپ سے تعلق رکھتا ہے برداشت نہیں کر سکتے وہ بڑا نقصان تو کسی حالت میں بھی برداشت نہیں کر سکتے۔مگر اِکْتَال کے بالمقابل جب کَالُوْھُمْ کہا تو تھوڑا دینے کے لفظ سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ زیادہ بھی لوٹ لیتے ہیں کیونکہ اگر کوئی شخص چھوٹا نقصان پہنچائے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ وہ بڑا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص چھوٹا گناہ کر لے مگر جب بڑا گناہ آئے تو اس سے ڈر جائے پس چونکہ کَالُوْا کا لفظ اصل حقیقت پر پوری طرح روشنی نہیں ڈالتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی اَوْوَّزَنُوْھُمْ کا لفظ استعمال کر کے بتا دیا کہ جہاں تھوڑا