تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 413
درحقیقت وہ تجارت نہیں ہوتی بلکہ ایک رنگ کی سیاست ہوتی ہے جس کے ذریعہ یہ دوسرے ملک پر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں۔فرض کرو الف اور باء دو یوروپین قومیں ہیں اور ان کی آپس میں دشمنی ہے الف سمجھتا ہے کہ اگر میری باء سے لڑائی ہو گئی تو ج اس لڑائی میںضرور باء کی طرف سے شامل ہو گا لیکن اسے سامان جنگ کے لئے ہماری امداد کی ضرورت ہے جب ایسی صورت پیدا ہو تو الف۔ج کے لئے سامانِ جنگ کے ریٹ گرا دے گا اور اس کے لئے سامان جنگ تیار کرنے پر آمادگی ظاہر کرے گا مگر کوئی چیز وقت پر تیار کر کے نہیں دے گا۔یہاں تک کہ لڑائی کا وقت آجائے گا اور ج سامان نہ ہونے کی وجہ سے یا باء کی مدد نہ کر سکے گا یا دشمن کے ہاتھوں پیسا جائے گا۔تو جہاں تک بڑی تجارتوں کا سوال ہے یا قومی تجارتوں کا سوال ہے یہ قوم خطرناک تطفیف کرتی ہے۔اور اس سورۃ میں ان کی اسی خرابی کا ذکر کیا گیا ہے۔کیل کے ساتھ لفظ وزن کا اضافہ کرنے کی وجہ یہاں ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے۔وہ سوال یہ ہے کہ پہلے فرمایا تھا الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ مگرا س کے بعد وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ فرمایا ہے۔یعنی کَیل کے ساتھ وزن کے لفظ کا اضافہ کر دیا ہے۔حالانکہ جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے کَیْل کے لفظ میں ماپ تول وغیرہ سب شامل ہے۔اگر تو کَیْل کے وہی معنے لئے جائیں جو لغت میں آتے ہیں تو اس صورت میں کَالُوْھُمْ کے بعد اَوْوَّزَنُوْھُمْ کے لفظ کی زیادتی کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ کَیل کے معنوں میں ہی وزن کے معنے شامل ہیں۔اور اگر یہ توجیہ کی جائے کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کَالَ کے زیادہ معروف معنوں کو لیا ہے جو ماپنے کے ہیں تو پھر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اس صورت میں پہلی آیت میں بھی وزن کا لفظ بڑھانا چاہیے تھا مگر وہاں یہ لفظ نہیں رکھا گیا۔خلاصہ یہ کہ یا تو پہلی آیت میں یوں کہا جاتا اَلَّذِیْنَ اِذَااکْتَالُوْا وَاتَّزَنُوْاعَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ یا پھر دوسری آیت یوں ہوتی کہ وَاِذَا کَالُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ۔زجاج نے یہ سوال اٹھا کر اتنا جواب دیا ہے کہ چونکہ کَیل اور وزنؔ معنوں میں مقاربت اور مشارکت رکھتے ہیں اس لئے ایک کو بیان کر کے دوسرے کو چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ ذہن خود اس کا اندازہ کر لیتا ہے پس پہلی آیت سے بھی مراد یہ ہے کہ اِکْتَالُوْا وَاتَّزَنُوْا گویا دو قریب المعنٰی الفاظ میں صرف ایک پر حصر کر لیا گیا ہے۔یہ جواب ایک حد تک درست ہے اور قرآن کریم میں اس قسم کی اَور بھی مَثالیں پائی جاتی ہیں کہ جہاں دو الفاظ اپنے معنوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے قرابت اور اتصال رکھتے ہوں وہاں ایک کو بیان کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کا ذِکر چھوڑ