تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 405
ہے۔آپ فرماتے تھے کہ سُود لے کر لوٹنا تو ان کے بنکوں سے ظاہر ہے اور سُود دے کر دوسروں کو لُوٹ لینے کے ذکر میں آپ اودھ کی حکومت کی مثال دیا کرتے تھے۔بعد میں مَیں نے حوالے دیکھے تو آپ کی یہ بات درست معلوم ہوئی کہ واقعہ میں انہوں نے اودھ کی حکومت کو سود دے کر لوٹا ہے انہوں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ کلکتہ بنک میں اگر اپنا روپیہ جمع کرا دو تو تمہیں بڑا نفع ملے گا۔چنانچہ لوگوں نے روپیہ جمع کرانا شروع کر دیا اور انہوں نے ان کو خوب سود دیا یہاں تک کہ عورتوں نے اپنے زیورات بیچ بیچ کر روپیہ اس بنک میں جمع کرانا شروع کر دیا اور سمجھا کہ انگریز بڑے خیر خواہ ہیں یہ تو ہمیں خوب منافع دیتے ہیں جب اودھ کے بادشاہ سے انگریزوں کا اختلاف پیدا ہوا اور انگریزی فوجیں لکھنؤ کی طرف بڑھنی شروع ہوئیںتو امراء نے بادشاہ کو انگریزی فوج کے اس حملہ سے بالکل غافل رکھا جب انگریزی فوجیں لکھنؤ کے قریب آئیں تو اودھ کے تمام امراء کو نوٹس مل گیا کہ اگر تم نے ذرا بھی حرکت کی تو تمہارا بنک میں جس قدر روپیہ ہے وہ سب ضبط کر لیا جائے گا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خاموش بیٹھے رہے اور بادشاہ کو تب پتہ لگا جب انگریزی فوجیں شہر کے دروازہ پر پہنچ گئیں۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بادشاہ کو غافل رکھنے کے لئے امراء نے ناچ کی تحریک کر دی تھی چنانچہ وہ اسی ناچ میں مشغول رہا یہاں تک کہ انگریزی فوجیں اُس کے سر پر جا پہنچیں۔(حقائق الفرقان زیر آیت الذین یأکلون الربا۔۔) غرض عیسائی قوم ایسی ہے جس نے روپیہ لے کر بھی دوسروں کو لوٹا ہے اور روپیہ دے کر بھی دوسروں کو لوٹا ہے یہ صحیح معنوں میں مُطَفِّف ہیں اور ہر بات میں اپنا حق فائق رکھتے ہیں۔لیکن اگر دوسروں کے حق کا سوال ہو تو اُس پر سو سو اعتراض کر دیتے ہیں آخر یہ موٹی بات ہے کہ وجہ کیا ہے کہ ساری دنیا اُن کے قبضہ میں آگئی۔کون سے جائز دلائل اور معقول وجوہ تھے جن کی بناء پر انہوں نے اتنا بڑا تسلّط حاصل کر لیا کہ چینؔ ہے تو اس میں ان کا دخل ہے۔ہندوستانؔ ہے تو وہاں ان کا دخل ہے۔افغانستانؔ ہے توا س پر اُن کا دبائو ہے۔اسی طرح بخاراؔ کیا اور چینیؔ ترکستان کیا اور کاکیشیاؔ کیا اور جارجیاؔ کیا ہر جگہ ان کا دخل ہے۔عربؔ ہے تو وہاں ان کا تصرّف ہے۔ترکیؔ ہے تو اس کے معاملات میں ان کا دخل ہے۔مصرؔ ہے تو وہ ان کے قبضہ میں ہے۔افریقہؔ ہے تو وہ ان کے ماتحت ہے آخر لوگوں نے کون سے قصور کئے تھے کہ جن کی وجہ سے یہ جہاں بھی گئے وہ مغلوب ہوتے گئے اور یہ غالب آتے چلے گئے۔اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ زبردست کاٹھِینگا سر پر۔اِن کی مثال بالکل اس بندر کی سی ہے جو دو بلّیوں کا پنیروزن کرنے کے بہانہ سے کھا گیا تھا۔کہتے ہیں کہ دو بلّیوں نے کہیں سے پنیر کا ایک ٹکڑہ چُرایا جس پر اُن دونوں میں لڑائی ہو گئی۔ایک کہتی تھی کہ مَیں اتنا حصّہ لوں گی اور دوسری کہتی تھی کہ مَیں اتنا حصّہ لوں گی۔آخر انہوں نے ایک بندر سے کہا